خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 221 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 221

خطابات ناصر جلد دوم ۲۲۱ اختتامی خطاب ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۶ء نام سے بھی چڑتے ہو۔دوستو ! خوب سوچو۔بن جوڑا کسی بات کی بھی گت نہیں۔خدا نے جوڑ بھی ایک عجیب چیز بنادی ہے جہاں دیکھو جوڑ ہی سے کام نکلتا ہے ہم تم سب آنکھوں ہی سے دیکھتے ہیں پر آفتاب کی بھی ضرورت ہے۔کانوں ہی سے سنتے ہیں پر ہوا کی بھی حاجت ہے آفتاب چھپا تو بس اندھے بیٹھے رہو۔کانوں کو ہوا سے ڈھانک لو۔تو بس سننے سے چھٹی ہوئی۔‘ ( براہین احمدیہ چہار حصص روحانی خزائن جلد نمبر اصفحہ ۱۷۰۔۱۷۱ حاشیہ) جب عقل کا الہام سے جوڑ قائم ہو جائے جب عقل کی کاوش قرآن کریم کی صداقتوں کی روشنی میں چلنے لگے۔جب قرآن کریم کی بتائی ہوئی سیدھی راہ پر عقل تیزی سے آگے بڑھ رہی ہو پھر تو فائدہ کی چیز ہے ورنہ نہیں۔قرآن کریم نے ہر عقلی کاوش کے مقابلے میں انسان کو ایک تو عقل دی ہے اور دوسرے اس عقل کو الہامی نور عطا ہوا ہے۔قرآن کریم کی ایک اور عظمت یہ ہے کہ جو عقل کا کام تھا یعنی عقلی فارمولے بنانے کا کام۔وہ باتیں بھی بہت سے مواقع پر قرآن کریم خود ہی بتاتا ہے کسی چیز کے متعلق عقلی شہادت کے بعد قرآن کریم الہام کی شہادت سے اس کی صداقت پر مہر لگا دیتا ہے مثلا عقل یہ کہتی ہے آنکھ دیکھنے کے لئے ہے۔کان سننے کے لئے ہیں۔عقل یہ کہتی ہے کہ قدرت نے ہمیں جو طاقتیں دی ہیں وہ استعمال کرنے کے لئے ہیں اور وہ آزاد ہیں قرآن کریم کہتا ہے خدا تعالیٰ نے طاقتیں دی ہیں لیکن ان کو معین راستوں پر باندھ دیا ہے ورنہ خرابی پیدا ہوتی۔قرآن کریم کہتا ہے کہ جو مشاہدہ ہے یعنی عقل نے جو حاصل کیا ہے وہ یہ ہے کہ آنکھ دیکھنے کا چیز کان سننے کی چیز اور اس طرح دوسری طاقتیں استعمال کرنے کا چیزیں ہیں لیکن اگر الہام کی راہنمائی نہ ہو تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے الہام کامل قرآن کریم کا الہام ہے تو اگر عقل وحی قرآن کی روشنی کے اندر نہ ہو تو آنکھ نے دیکھا اور کان نے سنا اور دوسری قوتوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور لاکھوں حرامزادے امریکہ میں پیدا کر دیئے۔یہ عقل کا کرشمہ ہے قرآن کریم یہ نہیں کہتا وہ کہتا ہے۔آنکھ دیکھنے کی چیز ہے کان سننے کی چیز ہے اور دوسری طاقتیں استعمال کرنے کی چیزیں ہیں اور اس لحاظ سے عقل صحیح نتیجہ پر پہنچتی ہے مگر ان کو آزادی نہیں ہے اگر انسان نے روحانی رفعتوں کو پانا ہے اور اپنی پیدائش کے مقصد کو حاصل کرنا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہدایت یعنی قرآن کریم کی تعلیم پر چلنا پڑے گا اور وہ یہی ہے جیسا کہ قرآن کریم