خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 223 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 223

خطابات ناصر جلد دوم ۲۲۳ اختتامی خطاب ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۶ء آلہ انسان کے ہاتھ میں ہے۔جو بے انتہاء ترقیات کے حاصل کرنے کے لئے عام طور پر اس کو دیا گیا ہے۔پس ظاہر ہے کہ اگر الہامی کتاب اس آلہ کی حمد اور معاون اور محافظ نہ ہو بلکہ یہ تعلیم دے جو اس آلہ کو بالکل معطل چھوڑ دینا چاہئے۔تو ایسی کتاب بجائے اس کے جو انسان کو فطرتی طاقتوں کو وضع استقامت پر چلا وے خودان طاقتوں کو وضع استقامت پر چلنے سے روکے گی اور بجائے اس کے جو کچھ یاری اور مددگاری کرے۔خو در ہرن اور مضل بن جائے گی۔“ ( براہین احمدیہ حصہ اوّل صفحه ۱۰۲ حاشیہ نمبر ۵) اس سلسلہ میں ایک اور اقتباس بھی سن لیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔بذریعہ قیاسات عقلیہ کے جو کچھ خدا اور امور آخرت کے بارے میں سوچا جاتا اور فکر کیا جاتا ہے۔اس سے نہ یقین کامل حاصل ہوتا ہے نہ معرفت کامل۔اور جو جو وساوس قیاس پرستوں کے جی میں کھٹکتے رہتے ہیں ان کا تدراک بجزا لہام کے ہوہی نہیں سکتا اگر عقل سے ہی پورا پورا کام نکلتا ہے تو پھر کیوں عقل ہمیں راستہ چھوڑ کر آگے چلنے سے انکار کرتی ہے۔کیا مرتبہ اعلیٰ ہماری معرفت اور خدا شناسی کا یہی ہے کہ ہم صرف اتنے پر ہی کفایت کریں کہ کوئی بنانے والا چاہئے۔جس یقین کامل کے لئے ہماری روح تڑپتی ہے۔اگر وہ صرف عقل سے ہم کومل جا تا تو پھر یہ قول بھی ہمارا بجا ہوتا کہ اب ہمیں الہام کی کچھ حاجت نہیں کیوں تمہاری آنکھیں دیکھنے سے عاجز ہو رہی ہیں۔عقل نے تم سے کیسی بے وفائی کی کہ تم جیسے پوجاریوں سے دور بھاگ گئی۔حضرات! تم خودسوچ کر دیکھ لو کہ الہام کے بغیر نہ یقین کامل ممکن ہے نہ غلطی سے بچنا ممکن نہ توحید خالص پر قائم ہونا ممکن۔نہ جذبات نفسانیہ پر غالب آنا حتیز امکان میں داخل ہے۔وہ الہام ہی ہے جس کے ذریعہ سے خدا کی نسبت ہے کی دھوم مچی ہوئی ہے اور تمام دنیا ہست ہست کر کے اس کو پکار رہی ہے لیکن فقط عقل کے پردے سے جس قدر دنیا کو ضرر پہنچا ہے وہ کچھ پوشیدہ نہیں بھلا تم آپ ہی بتلاؤ کس نے افلاطون اور اس کے توابع کو خدا کی خالقیت سے بنایا ؟ کسی نے جالینوس کو روحوں کے باقی رہنے اور جزا سزا کے بارے میں شک میں ڈال دیا؟ کس نے تمام حکیموں کو خدا کے عالم بالجزئیات ہونے سے انکاری۔