خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 5
خطابات ناصر جلد دوم افتتاحی خطاب ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۴ء اپنے ملک کے لیے دعائیں کرنی ہیں اور اس کی خوشحالی کے سامان پیدا کرنے ہیں تد بیرا اپنی جگہ ضروری ہے مگر دعاؤں کے ذریعہ ملک کی خوشحالی کے سامان پیدا کرنا، اس کی ذمہ داری بڑی حد تک جماعت احمدیہ پر عائد ہوتی ہے۔اس لیے وہ تھی جو مادر وطن کے بعض نا سمجھ سوتیلے رشتوں کی طرف سے ہماری زندگی میں پیدا ہو ، وہ ہمیں ان دعاؤں سے نہیں روک سکتی اور نہ ہمیں اس ملک سے باہر جانے پر مجبور کر سکتی ہے۔جن لوگوں کے یہ خیالات ہیں وہ اپنے دماغوں سے ان کو نکال دیں۔ہم نے پاکستان کے لیے دعائیں کیں۔ہم اس کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور دیتے چلے جائیں گے اور دعائیں کر رہے ہیں اور کرتے چلے جائیں گے۔ہم اپنے رب کریم سے اُمید رکھتے ہیں کہ ایک دن وہ ہماری دعاؤں کو سنے گا اور اس ملک میں استحکام اور اس کی خوشحالی کے سامان پیدا کر دے گا اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کو سُنے گا اور ان لوگوں کی ہدایت کے لیے بھی سامان پیدا کرے گا جو سو تیلے رشتوں کی وجہ سے مادر وطن کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے نظر آتے ہیں خدا کرے کہ وہ بھی حقیقت کو سمجھیں اور پاکستان کی خوشحالی کے لیے کام کریں۔اس سال ہمارے لیے کچھ برکتیں اور رحمتیں نئی شکل میں آسمان سے نازل ہوئیں۔اس رنگ میں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا وجہ ہے کہ جن بزرگوں کے متعلق (یعنی ہماری نگاہ میں بزرگ ورنہ اللہ تعالیٰ کے تو سارے عاجز بندے ہیں) آپ یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا اُن سے پیار کا تعلق ہے ، وہ اتنے سخت اور شدید ابتلاؤں میں مبتلا ہمیں نظر آتے ہیں۔یہ کیوں؟ کیا خدا تعالیٰ اُن سے پیار نہیں کرتا؟ کیا خدا تعالیٰ کے پیار کا اس طرح اظہار ہوتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو شدید تکلیف پہنچائے حالانکہ جو لوگ خدا کو چھوڑ کر غیر اللہ کے بندے بن جاتے ہیں، ان کو بھی لوگ ایسی تکلیف میں مبتلا نہیں دیکھتے۔اس کے بہت سے جواب ہیں۔ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑا پیارا جواب دیا ہے۔آپ نے فرمایا جن چیزوں کو تم تکالیف سمجھتے ہو، خدا تعالیٰ کے اُن پیارے بندوں سے جا کر پوچھو کہ وہ کیا سمجھتے ہیں۔اگر خدا کے پیارے بندے اُن تلخیوں اور تکلیفوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والی لذت اور سرور سمجھتے ہیں اور اُس سے خوش ہیں تو جن کو احساس لذت اور سرور حاصل ہے، اُن کے متعلق تمہیں یہ کہنے کا کیا حق پہنچتا ہے کہ خدا تعالیٰ انہیں تکالیف میں مبتلا کرتا ہے۔