خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 6
خطابات ناصر جلد دوم افتتاحی خطاب ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۴ء چنانچہ اس قسم کا پیار اور اس قسم کی لذت اور سرور بھی جماعت کے ایک حصہ نے اس سال حاصل کیا، تلخیاں پیدا کی گئیں، مکان جلائے اور لوٹے گئے ، دکا نہیں کوئی اور جلائی گئیں، انسانی زندگی میں بظاہر یہ واقعات بڑی تلخیاں لیے ہوئے تھے لیکن عجیب شان ہے خدا تعالیٰ کی جس نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل چودہ سو سال بعد اس زمانہ میں آپ سے پیار کرنے والے ایسے لوگ پیدا کئے کہ جو سب کچھ لٹا کر مسکراتے چہروں کے ساتھ میرے پاس آتے تھے اور مجھے یہ کہتے تھے کہ خدا نے ہمارے مال لے کر ہمیں قربانیوں کی توفیق دی اور اس کی رحمتوں کے جلوے ہم نے اپنی زندگیوں میں دیکھے۔دنیا انہیں تلخیاں بجھتی تھی ، لیکن خدا کے یہ محبوب بندے خدا کا پیار سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ خدا نے ایک اور موقعہ دیا اس بات کے اظہار کا کہ ہم واقعہ میں اللہ تعالیٰ سے پیار کرنے والے اور اس سے پیار کا تعلق رکھنے والے ہیں۔ہمارا ایک نو جوان جو اپنے باپ کے ساتھ کام کرتا تھا۔دو جگہ اُن کے کارخانے تھے اور جائز طور پر اچھے خاصے پیسے کما رہے تھے اُس کا تمیں لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔وہ میرے پاس آیا تو اُس کی یوں باچھیں کھلی ہوئی تھیں کہ اگر کوئی اور دیکھتا تو یہ سمجھتا کہ وہ شادی کروا کر آیا ہے، شادی اور خوشی ہی تھی کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے زیادہ قریب ہو گیا تھا۔لوگوں نے اس کی تمہیں لاکھ کی جائیداد کو آگ لگادی اس کا سب کچھ لٹ گیا مگر وہ مسکرا تا ہوا میرے پاس آ گیا اور کہنے لگا۔اگر نقصان ہو گیا تو کیا ہوا۔لوگوں کی ان حرکتوں سے خدا کے خزانے تو خالی نہیں ہو سکتے۔اگر خدا کے خزانے خالی نہیں اور جو کچھ ملا تھا وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ملا تھا تو اب انشاء اللہ اس سے بھی زیادہ ملے گا۔اگر خدا کے خزانے خالی ہو جائیں یا انسان نے خدا کی رحمتوں کے علاوہ کسی اور گھر سے کچھ لیا ہو تو اس کو فکر ہو سکتی ہے لیکن جو شخص اس ایمان پر قائم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خزانے کبھی خالی نہیں ہوتے اور خدا کی مرضی اور حکم کے بغیر انسان کو کچھ نہیں ملتا تو اس کو کیا فکر اور کیا غم ہے۔چنانچہ میں اپنے دوستوں کے ان مسکراتے چہروں میں مزید بشاشت پیدا کرنے کے لیے ان کو ۱۹۴۷ء کے واقعات بتایا کرتا تھا۔انسانی نفس کا یہ خاصہ ہے کہ وہ بعض دفعہ مشکلات کے وقت گھبرا جاتا ہے اس لیے بعض چہروں پر کچھ گھبراہٹ اور پریشانی بھی نظر آتی تھی لیکن اللہ تعالیٰ کی توفیق کے ساتھ دو تین سو یا چار پانچ سو احمدی احباب جن سے میں اُن دنوں روزانہ اجتماعی