خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 50
خطابات ناصر جلد دوم دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء دیا کہ یہ درست ہے کہ مجھے اپنے ہسپتال میں ہر قسم کی سہولت مل سکتی ہے لیکن اس احمدی ڈاکٹر کے ہاتھ میں جو شفاء ہے وہ ہمارے ہسپتال کے ڈاکٹر کے ہاتھ میں نہیں ہے۔اس لئے میں یہاں آ گیا ہوں اس طرح بڑے بڑے امیر لوگ ان ہسپتالوں میں آکر علاج کراتے ہیں اور شفا پاتے ہیں۔یہی حال ہمارے سکولوں کی مقبولیت کا ہے۔ایک سکول کے ہیڈ ماسٹر نے مجھے بتایا کہ ایک ایک دن میں پانچ پانچ وزیر میرے پاس سفارش لے کر آئے ہیں کہ فلاں فلاں لڑکے کو اپنے سکول میں داخل کر لو۔غرضیکہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل نے ہمارے ہسپتالوں اور سکولوں کو غیر معمولی طور پر مقبولیت سے نوازا ہے۔فالحمد للہ علی ذالک۔میں نے بتایا ہے سولہ جگہیں ہیں، جہاں ہمارے ہسپتال کام کر رہے ہیں۔ان میں سے سات جگہوں پر ہسپتال کی بڑی اچھی عمارتیں تعمیر ہو چکی ہیں۔ان عمارتوں میں باقی سہولتوں کے علاوہ بڑا اچھا اپریٹس بھی موجود ہے۔آپریشن والے کمروں کے لئے ایک ایک میز پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ ہزار روپے کی ہم نے لندن سے بھجوائی ہے۔ایک جگہ پر تو ہمیں مقامی طور پر پچھتر ، استی ہزار روپے میں اس لئے خریدنی پڑی کہ لندن سے آنے میں تاخیر ہونے کا اندیشہ تھا۔غرض اچھے اوزار ، اچھے مکان ستھرا ماحول اور ستھرے دلوں کے ساتھ دعا کرنے والے ڈاکٹر خدمت کر رہے ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اپنے ہاتھوں میں نشتر پکڑ کر آپریشن کرتے ہیں اور لوگوں کو شفا حاصل ہوتی ہے۔غرض سات جگہوں پر ہسپتال تعمیر ہو چکے ہیں۔تین جگہوں پر ہسپتال زیر تعمیر ہیں۔وہ بھی انشاء اللہ جلد مکمل ہو جائیں گے اور اب مزید چار ہسپتالوں کی تعمیر کی منظوری میں دے چکا ہوں وہ بھی انشاء اللہ جلد بن جائیں گے۔نصرت جہاں سکیم کے ماتحت دس ہائر سیکنڈری سکول مکمل ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ میں نے بتایا ہے کہ تحریک جدید کے بھی سولہ ہائر سیکنڈری سکول کام کر رہے ہیں۔جن کی عمارتیں تعمیر ہو چکی ہیں۔سکولوں میں پینسٹھ اساتذہ کام کر رہے ہیں۔جن میں اکثریت افریقن استادوں کی ہے اور اس سال ہم نے تین نئے سکول کھولنے کی منظوری دی ہے۔ان کی عمارتیں بھی خدا کے فضل سے زیر تعمیر ہیں ایک سکول مزید کھلنے کا امکان ہے انشاء اللہ وہ بھی کھول دیا جائے گا۔پس