خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 49
خطابات ناصر جلد دوم ۴۹ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء سے انکار کر کے ہمیں بد نام اور شرمندہ کر دیا ہے۔پس خدا تعالیٰ نے ہمیں دنیا کی خدمت کا جذ بہ دیا ہے۔وہاں پتہ ہے اس وقت تک کتنی عمارتیں بن گئیں ہیں؟ افریقہ کے ان ملکوں میں جن کا میں نے دورہ کیا تھا اس وقت تک نصرت جہاں آگے بڑھو سکیم کے تحت سولہ جگہوں پر ہسپتال کام کر رہے ہیں جن میں انیس کوالیفائیڈ ڈاکٹر کام کر رہے ہیں۔ان کے علاوہ نرسیں اور باقی عملہ وہاں کا مقامی ہے۔ان ڈاکٹروں میں دو لیڈی ڈاکٹرز جو دو ڈاکٹروں کی بیویاں ہیں خدمت کا فریضہ سرانجام دے رہی ہیں۔میں نے شروع میں جو تحریک کی تھی اس میں کہا تھا کہ اگر میاں بیوی دونوں ڈاکٹر ہوں اور وہ اس غرض کے لئے وقف کریں تو ان دونوں کو وہاں بھجوا دیا جائے گا لیکن اکیلی لیڈی ڈاکٹر کو نامحرموں کے ساتھ کیسے بھیج دوں۔یہ تو نہیں ہو سکتا کہ اسلام کی ایک خدمت کرتے ہوئے ، ہم اسلام کا دوسرا حکم توڑ دیں۔چنانچہ اس بات کی اجازت دی گئی تھی کہ ڈاکٹر کے ساتھ ان کی بیوی بھی جاسکتی ہے۔چنانچہ دولیڈی ڈاکٹر ز جن کے میاں بھی کوالیفائیڈ ایم بی بی ایس اور بڑے اچھے تجربہ کار ڈاکٹر ز ہیں وہ ہمیں مل گئی ہیں اور وہ بھی وہاں کام کر رہی ہیں۔اس طرح کل انیس ڈاکٹر وہاں کام کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان ہسپتالوں میں اب تک دس لاکھ باسٹھ ہزار مریضوں کا علاج ہو چکا ہے اور آٹھ ہزار سات سو تیرہ آپریشن ہو چکے ہیں۔بعض ایسے آپریشن بھی ہوئے ہیں جن کو داخل کرتے ہوئے عیسائی ہسپتال گھبراتے تھے۔کیونکہ وہ کیس (Case) بہت الجھے ہوئے تھے لیکن ہمارے بعض ڈاکٹر بہت دعا کرنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں جزا دے۔انہوں نے خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے ان کا آپریشن کیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایسے مریضوں کو شفا عطا کی۔جس کی وجہ سے افریقی دنیا میں ایک تہلکہ مچ گیا۔پس جب کہ میں نے ابھی بتایا ہے ہمارے ان ہسپتالوں میں دس لاکھ باسٹھ ہزار مریضوں کا علاج ہوا۔تقریباً نو ہزار آپریشن کئے گئے۔ہمارا خیال تھا کہ ہم ان ہسپتالوں میں غریب لوگوں کا مفت علاج کریں گے لیکن خدا نے کہا ہم امیروں کو بھی بھیج دیں گے۔ایک دفعہ علاج کی غرض سے گورنمنٹ کا ایک وزیر بھی آگیا۔اس کے دوستوں نے کہا تمہارا گورنمنٹ کا ہسپتال ہے تم وزیر ہو اور گورنمنٹ کے ہسپتال میں ہر قسم کی سہولت ہے۔تم یہاں کیوں آگئے؟۔تو اس وزیر نے جواب