خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 51
خطابات ناصر جلد دوم ۵۱ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء خدا تعالیٰ ہم پر فضل کر رہا ہے اور ہم آگے ہی آگے بڑھ رہے ہیں۔جن دلوں میں اسلام کی محبت ہے وہ بڑے خوش ہورہے ہیں خواہ وہ ہمارے ہم عقیدہ ہوں یا نہ ہوں۔مغربی افریقہ میں ایک جگہ ایسی بھی ہے جہاں سارے علاقے میں لڑکیوں کا کوئی بھی سکول نہ تھا۔اس علاقے کے لوگ ہمارے پیچھے پڑگئے پہلے تو مجھے کچھ گھبراہٹ تھی لیکن انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں احمدی ہی لڑکیوں کا سکول کھول سکتے ہیں۔تب میں نے کہا میں ان کے اور خدا کے درمیان روک کیوں بنوں؟ میں نے اپنے مبلغوں سے کہا کہ خدا خود ہی رقم کا بندو بست کر دے گا۔تم سکول شروع کر دو۔چنانچہ اس سکول کی منظوری بھی مل گئی ہے۔عمارت بھی انشاء اللہ جلد ہی بن جائے گی۔غرض نصرت جہاں سکیم کے تحت اس وقت دس سکول کام کر رہے ہیں جن کی عمارتیں بھی مکمل ہو گئی ہیں اور چار کی منظوری ہو چکی ہے۔عمارتیں زیر تعمیر ہیں۔اسی طرح ایک سکول مزید کھلنے کی منظوری ہو گئی ہے ابتدائی کام ہو رہا ہے۔اس لحاظ سے نصرت جہاں سکیم کے ماتحت پندرہ سکول ہو جائیں گے۔صد سالہ جو بلی فنڈ : پچھلے سال میں نے صد سالہ احمد یہ جو بلی فنڈ کا اعلان کیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس منصوبہ کے ساتھ لوگوں کے دلوں میں اتنی محبت اور پیار پیدا کیا کہ ہم سوچتے کچھ تھے اور بن گیا کچھ اور۔گویا اللہ تعالیٰ نے ہمارے اندازے سے کہیں زیادہ فضل فرمایا۔بعد میں جب بڑا شور بپا ہوا تو ہم سے بڑا تعلق رکھنے والے بعض پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگ میرے پاس بھی آئے اور جماعت کے بعض اور لوگوں کے پاس بھی گئے اور کہنے لگے آپ نے بڑا ظلم کیا۔جو مالی قربانی جماعت دے رہی تھی ، آپ اس کا اعلان کر دیتے تھے۔ہمارے دلوں میں حسد پیدا ہوا اور ہم نے آپ کی مخالفت شروع کر دی۔اس (صد سالہ احمد یہ جوبلی ) سکیم کے تحت اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستان اور ہندوستان سے باہر کی احمدی جماعتیں پانچ کروڑ سے زیادہ کا وعدہ کر چکی ہیں۔فالحمد للہ علی ذالک۔پہلے تو میں بھی یہی سمجھتا تھا اور میرا اندازہ بھی یہی تھا کہ تھوڑی سی رقم کے وعدے آئیں گے جو کہ پندرہ سال میں قابل وصول ہوں گے۔اس وقت جو سکیم دماغ میں آئی تھی ، اس کی کامیابی کے لئے باہر کے ممالک نے اس سے کوئی دگنی تگنی رقم کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے لی اور ہمیں