خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 39 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 39

خطابات ناصر جلد دوم ۳۹ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء تقریباًہمارے تمام سکولوں میں ایف ایس سی تک پڑھائی ہوتی ہے۔یہ تمام سکول خدا کے فضل سے بڑی کامیابی سے چل رہے ہیں اور وہاں کے مقامی لوگ بھی درجنوں کی تعداد میں ان سکولوں میں اساتذہ کے طور پر کام کر رہے ہیں اور وہ بڑے اچھے دل کے مالک ہیں۔ایک وقت میں سیرالیون کی حکومت نے یہ اعلان کیا کہ وہ تمام سکولوں کو نیشنلائز کرے گی یعنی قومی تحویل میں لے لے گی۔ہمارے مبلغ بہت گھبرائے۔انہوں نے مجھے اطلاع دی تو میں نے انہیں لکھا کہ ہم نے ان ہی کے لئے یہ سکول بنوائے تھے۔حکومت ان کو نیشنلائز کرے گی تو کیا ہو جائے گا۔یہ سکول ہم نے اپنے گھر میں تو نہیں لے جانے۔اُنہی کی خاطر ہم نے بنائے ہیں تو اگر وہ قومیانہ چاہتے ہیں تو بڑی خوشی سے ایسا کر لیں۔چنانچہ جب میں ۱۹۷۰ ء میں مغربی افریقہ کا دورہ کرتے ہوئے سیرالیون پہنچا تو اس وقت تک وہاں ہمارے تمام سکول قومیائے جاچکے تھے لیکن ان میں تعلیم و تربیت کا انتظام حسب سابق ہمارا ہی چل رہا تھا۔نہ ہمارے استادوں کو نکالا گیا۔نہ ہمارے انتظام کو بدلا گیا۔جس طرح پہلے وہاں کے مقامی لوگ انتظام میں شامل تھے اسی طرح اب بھی ہیں۔سیرالیون کے دارالحکومت فری ٹاؤن میں قائم شدہ ہمارے احمد یہ سیکنڈری سکول کی آخری کلاس جو ایف اے، ایف ایس سی کا امتحان پاس کر چکی تھی اس کلاس نے میرے وہاں پہنچنے سے پہلے سندات حاصل کرنی تھیں۔پرنسپل کے ذہن میں یہ بات آئی اور انہوں نے لڑکوں سے کہا تم سندات لے لو گے کیا مزہ آئے گا۔چونکہ ہیڈ آف دی کمیونٹی یعنی خلیفہ المسیح تشریف لا رہے ہیں ان کے ہاتھ سے دلوائیں گئے تو تمہارے لئے یہ امر بہت ہی خوشی کا موجب ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر ان کے ہاتھ سے ہمیں سندات دلوانی ہیں تو ہمارے بیعت فارم بھی پُر کروا ئیں۔چنانچہ اس کلاس کے تمام عیسائی بچے جنہوں نے انٹر میڈیٹ امتحان پاس کر کے سندیں لینی تھیں بلا استثنا سب نے اسلام میں شمولیت اختیار کی اور وہ سندات لے کر چلے گئے۔پس نوع انسانی کی ہم یہ خدمت کر رہے ہیں اور اس خدمت کے ذریعہ سے ہم ان کے دماغوں میں آہستہ آہستہ یہ بات بھی ڈالتے رہتے ہیں کہ چاہے تم کیمسٹری سیکھو یا فزکس پڑھوسب کچھ حاصل کرو لیکن یہ بات بھی یاد رکھو کہ تمہاری ترقی کا راز اسلام میں ہے۔چنانچہ میں نے سیرالیون میں یونیورسٹی کے فارغ التحصیل بچوں سے ایک تقریر میں انہیں بتایا کہ خدا تعالیٰ