خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 40
خطابات ناصر جلد دوم ۴۰ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء تمہیں اپنی نعمتوں سے نوازا ہے۔اس نے تمہارے باغات کے درخت پھلوں سے بھر دیئے ہیں۔یعنی نعمتوں کے طور پر تمہیں پھل عطا ہوئے ہیں لیکن یہ یاد رکھو کہ کوئی پھل خود بخود آ کے تمہاری گود میں نہیں گرے گا۔تمہیں یہ پھل درخت پر چڑھ کر خود توڑنے ہوں گے۔یعنی محنت کرنی پڑے گی۔پس خدا نے تمہیں عقل و سمجھ عطا کی ہے۔تم محنت کرو اور ترقی حاصل کرو۔میں نے افریقن بھائیوں سے بھی کہا کہ دیکھو! دنیا علم میں بہت ترقی کر گئی ہے اور حصول علم میں بہت آگے نکل گئی ہے۔یہ تو درست ہے لیکن جہاں تک خدا تعالیٰ کی قدرت کا سوال ہے، دنیا اس وقت علوم کے سمندروں کے کناروں پر کھڑی ہے۔اس لئے تمہیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔تم حصول علم میں اس سے بھی آگے نکل سکتے ہو کیونکہ علموں کا خزانہ تو بند نہیں ہوا۔پس یہ باتیں ان کے دماغوں میں ڈالنے کے لئے اور انہیں دینی اور دنیوی ہر دولحاظ سے ترقی دینے کے لئے ہم وہاں گئے ہیں، ان سے پیسے حاصل کرنے کے لئے تو نہیں گئے۔میں نے اپنے دورہ کے دوران اس حقیقت کو کھل کر بیان کیا۔چنانچہ میری ان باتوں سے وہاں کے تمام سربراہان مملکت ، افسرانِ بالا ، جملہ امیروں اور غریبوں نے اتفاق کیا اور کسی نے بھی اس کی تردید نہیں کی۔میں ان سے یہی کہتا تھا کہ دیکھو ہم یہاں صرف تمہاری خدمت کے لئے آئے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ تمہارے دل میں خدائے واحد و یگانہ کی محبت اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق پیدا ہو جائے۔اس غرض کے لئے کسی جگہ پچاس سال سے اور کسی جگہ چالیس سال سے ہم با قاعدہ تمہاری خدمت میں مصروف ہیں۔تم بھی گواہ ہو اور تمہاری حکومتیں بھی گواہ ہیں اور تمہاری انتظامیہ بھی گواہ ہے کہ اس عرصہ میں نہ ہم نے کبھی تمہاری سیاست میں دلچسپی لی ہے۔نہ ہم نے تمہارے اموال پر نگاہ کی ہے بلکہ اس کے برعکس احمدیوں نے باہر کے ممالک میں کمائی کی اور اپنی کمائی خدا کی خوشنودی کے لئے تمہارے آگے ڈال دی تاکہ تم ترقی کرو۔علاوہ ازیں تم نے بھی جو مالی قربانی دی وہ باہر نہیں گئی وہ بھی آپ کی بہتری پر خرچ ہوئی۔خدا تعالیٰ تو بہت دینے والا ہے۔وہ خدا جو تمہیں یہاں دیتا ہے، وہی خدا ایک احمدی کو انگلستان میں دیتا ہے اور اس طرح دوسرے ملکوں میں بھی اپنے پیاروں کو دیتا ہے لیکن یہ بات کہ خدا تعالی کس طرح چھپر پھاڑ کر دیتا ہے، میں اسے نصرت جہاں سکیم کے ضمن میں بیان کروں گا۔