خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 488
خطابات ناصر جلد دوم ۴۸۸ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۸۰ء دنیا کی طرف آیا ان تمام کے کمالات متفرقہ جو تھےمحمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کمالات متفرقہ کو اپنے وجود کے اندر جمع کرنے والے ہیں۔اور اس لحاظ سے آپ افضل الانبیاءاور خاتم النبین ہیں۔جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا کہ نسبتی طور پہ بھی فضیلت ہے اور مستقل حیثیت میں بھی بغیر نسبتوں کے بھی آپ کو عظمتوں کا نہایت اعلیٰ مرتبہ اور مقام دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ایک مثال دیتا ہوں قرآن کریم میں آتا ہے۔لَا يَسْتَوِي الْقَعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِى الضَّرَرِ وَالْمُجهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فَضَّلَ اللهُ الْمُجْهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقَعِدِينَ دَرَجَةً : وَكُلًّا وَعَدَ اللهُ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللهُ الْمُجْهِدِينَ عَلَى الْقَعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا (النَّسَاء : ٩٦) یہاں مومنوں کے دو گروہوں کا ذکر ہے۔ایک وہ جو اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں۔اور ایک وہ جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرنے والے نہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے ان دونوں کا درجہ، مرتبہ اور مقام فضیلت کے لحاظ سے برابر نہیں ہے۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنہوں نے اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ذریعہ سے جہاد کیا ان کو ہم نے دوسروں پر فضیلت دی ہے وہ افضل ہیں ان سے باوجود اس کے کہ سب سے اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے سب کو اللہ تعالیٰ اجر دے گا اور اپنی رضا کی جنتوں میں انہیں داخل کرے گا۔لیکن مومن مومن میں فرق ہے۔ایک وہ مومن جو مال اور نفوس سے جہاد کرنے والا ہے اور ایک وہ مومن خدا تعالیٰ سے اجر پانے والا جو ایسا نہیں کرتا دونوں کو اجر ملے گا۔لیکن وَفَضَّلَ اللهُ الْمُجْهِدِينَ عَلَى الْقَمِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا ( النِّسَاء : ٩٦) جو جہاد کرنے والے ہیں اپنے اموال اور نفوس کے ساتھ ان کو اجر عظیم ملے گا۔ایک وہ مومن ہیں جن کو اجر ملے گا لیکن اجر عظیم نہیں ملے گا۔اسی طرح قرآن کریم میں جہاں رُسُل کا ذکر آیا ہے۔وہاں یہ بھی حکم دیا۔لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ (البقرة :۲۸۶) کہ رسول رسول میں فرق نہیں کیا جاتا اس واسطے کہ یہ ایک ب ہے۔اللہ تعالیٰ خود اپنی حکمتِ کاملہ سے ایک وقت میں ایک شخص کو چُنتا اور کہتا ہے کہ جا اور میرا پیغامبر بن اور جو تعلیم میں تجھے دیتا ہوں وہ اپنی قوم کی طرف جا کے ان کو سنا اور ان کو کہو خدا تم سے یہ مطالبہ کرتا ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے شریعت دی اور ان کو یہود کی