خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 487
خطابات ناصر جلد دوم MAL اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۸۰ء صرف عنوان بتا رہا ہوں۔اور یہ الکتاب جو ہے اس میں صرف یہ خوبی نہیں کہ انسانی فطرت کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے والی ہے بلکہ اس میں یہ قوت اور طاقت بھی ہے کہ اس کے فیوض قیامت تک جاری رہنے والے ہیں۔یعنی جو مفہوم ایک زندہ رہنے والے نبی کے اندر پایا جاتا ہے وہی مفہوم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی الکتاب کے اندر بھی پایا جاتا ہے۔یعنی یہ نہیں کہ قرآن کریم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے مسائل کو حل کیا بلکہ دنیا میں ہر نسل جو نئے مسائل لے کر پیدا ہوتی ہے اُن نئے مسائل کو حل کرنے کی طاقت اور قوت اس کتاب عظیم میں ہے۔اس لحاظ سے (1) دنیا کا کوئی نبی ایسا نہیں جو نوع انسانی کے لئے کامل اسوہ ہو۔اسوۂ حسنہ کے لحاظ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سلسلہ نبوت میں منفرد ہیں اور فضیلت کا یہ ایک عظیم پہلو ہے جو آپ میں پایا جاتا ہے۔اور (ح) اس معنی میں کہ آپ ایک ایسے رسول ہیں کہ روحانی نعماء کے حصول کے لئے یہ ضروری ہے کہ آپ کی اتباع کی جائے۔کوئی شخص جو آپ سے آزاد ہو کر یہ دعوی کرے کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فیوض سے بالا ہو کر خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کیا جھوٹا ہے اور دُنیا میں اور کوئی ایسا نبی نہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام صاحب شریعت ایک بزرگ نبی تھے اس میں شک نہیں۔لیکن اسی زمانہ میں جو بنی اسرائیل میں انبیاء کا زمانہ ہے دنیا کے دوسرے خطوں میں ایک اور شریعت لانے والا نبی تھا اور ان لوگوں کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت پر عمل کرنا ضروری نہیں تھا یعنی یہ مطالبہ ہی ان سے نہیں تھا۔(ضروری کا لفظ بھی غلط ہے ) ان کے لئے حکم تھا کہ نہ کریں اس پر عمل، بلکہ ایک اور شریعت تھی جس کے اوپر عمل کرنا ان کے لئے ضروری قرار دیا گیا تھا۔صرف محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلسلہ نبوت میں ایک واحد اور منفرد اور عظیم فضیلت والے نبی ہیں کہ روحانی مدارج کے حصول کے لئے آپ کی اتباع ضروری ہے۔اس کے بغیر کوئی روحانی مقام حاصل نہیں کیا جاسکتا۔اور ( واو ) اس معنی میں آپ خاتم النبیین ہیں کہ تمام گزشتہ انبیا کے تمام کمالات اور جب میں یہ فقرہ آپ کے سامنے بول رہا ہوں کہ تمام انبیا کے تمام کمالات تو میری مراد صرف ان انبیاء سے نہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں ان کا نام لے کر آتا ہے بلکہ قرآن کریم نے خود کہا ہے ایک جگہ کہ بعض انبیاء کا ہم نے نام لے کر ذکر کر دیا۔اور بہتوں کا ہم نے ذکر نہیں کیا۔جو ایک لاکھ چوبیس ہزار یا ایک لاکھ بیس ہزار پیغمبر