خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 489 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 489

خطابات ناصر جلد دوم ۴۸۹ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۸۰ء طرف بھیجا۔باوجود اس کے رسولوں میں سے ایک دوسرے کے درمیان کوئی فرق نہیں خدا تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا قرآن کریم میں تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ (البقرة : ۲۵۴) بعض کو بعض پر فضیلت ہے۔یہ نسبتی فضیلت کا ذکر جہاں انبیاء کی فضیلت کا اور رسولوں کی فضیلت کا ذکر قرآن کریم میں آتا ہے وہاں نسبتی فضیلت کا ذکر آتا ہے اور اس نسبتی فضیلت میں سورۃ البقرہ میں ہی ہے۔تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنْهُمْ مَنْ كَلَّمَ اللهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَتِ (البقرة :۲۵۴) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تحریر فرمایا ہے کہ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَتِ بعض کے درجات کو بہت بلند کیا اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کے درجات اللہ تعالیٰ نے تمام دوسرے رسولوں سے زیادہ بلند کئے اور آپ کو افضل الرسل اور خاتم النبین بنادیا گیا۔اس کے علاوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کلی فضیلت حاصل ہے قطع نظر اس کے کہ دنیا میں جو بیشمار اور چیزیں ہیں۔قطع نظر اس کے کہ انسان بنائے اور انسانوں کو خدا تعالیٰ نے اس لئے پیدا کیا کہ وہ اس کے عبد بنیں۔قطع نظر اس کے کہ مومن ایمان لانے والے ہیں ان کا ایک گروہ ہے ان میں سے عارفین ہیں۔رسل ہیں جو ان کی طرف آتے ہیں خود اپنی ذات میں ایک عظیم فضیلت کے مالک ہیں۔جو فضیلت اپنی انتہا تک پہنچی ہوئی ہے۔اس کا قرآن کریم کی اس آیت بھی استدلال کیا جاتا ہے کہ وَاَنْزَلَ اللهُ عَلَيْكَ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَمَكَ مَا لَمْ تَكُن تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيْمًا ( النِّساء :۱۱۴) قرآن کریم کے بہت سے بطون ہیں ، ایک بطن ، ایک معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تجھ پر کامل کتاب اتاری اور اس کتاب کا اصول یہ ہے کہ جب یہ حکم دیتی ہے تو حکمت بھی ساتھ بیان کرتی ہے بڑی عظیم کتاب ہے اور جو کچھ تو نہیں جانتا تجھے سکھایا اور تجھ پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہے وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عظیما یہ جو کتاب ملی اور حکمت ملی اُس میں تو ذکر تھا رسول کا یعنی وہ فضیلت جو آپ کو الرَّسُولُ النَّبِی کی حیثیت سے ملی لیکن وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا اس کے علاوہ بھی فضل عظیم تجھے عطا کیا گیا جس کا ذکر میں اس مضمون کے آخر میں انشاء اللہ تعالیٰ کروں گا۔پہلا عنوان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرتبہ کے لحاظ سے اور نسبتی فضیلت کے لحاظ