خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page iv
ہے ہم نے بھی اسی ملک میں رہنا ہے اور اس ملک نے ہماری اسی طرح خدمت کرنی ہے جس طرح ماں اپنے بچے کی خدمت کر رہی ہوتی ہے جلسہ سالانہ ۱۹۷۴ء کے دوسرے روز کے خطاب میں غلبہ اسلام کی نوید سناتے ہوئے فرمایا: اس وقت ایک بڑی زبر دست جنگ شروع ہو چکی ہے۔امریکہ چاہتا ہے کہ ساری دُنیا اس کے ساتھ مل جائے اور نوع انسانی امتِ واحدہ بن جائے۔اشتراکیت بھی کہتی ہے کہ ساری دُنیا کی وہی خیر خواہ ہے۔تمام دنیا کو اشتراکیوں کے ساتھ مل جانا چاہئے تا کہ ساری دُنیا ایک خاندان بن جائے۔اسی طرح چین کا سوشلزم بھی یہی کہتا ہے کہ ساری دُنیا اُن کے ساتھ مل جائے اور ایک خاندان بن جائے۔ان تین تحریکوں کے علاوہ گود نیا داروں کی نگاہ میں دھتکارا ہوا مگر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عظیم روحانی فرزند مہدی معہود ہے جو یہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے غلبہ اسلام کی جو بشارتیں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تھیں۔اُن کی رو سے میں دُنیا میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل دُنیا کا ہر انسان ایک خاندان کی لڑی میں پرویا جائے گا اور آپ کے طفیل نوع انسانی امت واحدہ بن جائے گی۔فرمایا۔لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (الصف : ۱۰) تمام دنیا پر اسلام غالب آئے گا اور تمام ملکوں پر تو حید کا جھنڈا لہرائے گا۔جلسہ سالانہ ۱۹۷۴ء میں نیشنل اسمبلی کے فیصلہ اور فقہ احمدیہ کی تدوین کا ذکر فرمایا: ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو ہماری نیشنل اسمبلی نے یہ قرارداد پاس کی کہ دستور یا قانون کی اغراض کے لئے احمدی مسلمان نہیں سمجھے جائیں گے پھر وہ یہ کہیں گے کہ جب قانون کی اغراض کے لئے آپ کو مسلمان نہیں سمجھا جائے گا تو شریعت کے اس حصہ کا جو قانون بن چکا ہے اس کا آپ کے اوپر اطلاق بھی نہیں ہو گا۔اس واسطے یہ ضروری ہو گیا کہ ہم فقہ احمدیہ کی تدوین کریں اور اس وقت میں اس کا اعلان کرتا ہوں۔کچھ دوست میں نے کام پر لگائے تھے چنانچہ نکاح اور ورثہ کے متعلق فقہ احمدیہ کے دو بابوں کا ابتدائی کام ہو چکا ہے۔ہم اپنی یہ فقہ جماعت کی شوریٰ میں پیش کریں گے اور جماعت فیصلہ کرے گی کہ یہ فقہ ہے جس کے قانون کی پابندی جماعت احمد یہ کرے گی اور جس کے قانون کی پابندی اگر حکومت نے کروانی ہوئی تو وہ جماعت احمدیہ سے کروائے گی یہ نہیں کہ زید اور بکر جس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں وہ ہمارے لئے قانون بنانا شروع کر دے۔یہ اتنی نا معقول بات ہے کہ کوئی سین (sane) آدمی اس کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔