خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page iii of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page iii

بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ اصر هو النـ پیش لفظ سیدنا حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفتہ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے فرمودہ خطابات کی جلد دوم پیش خدمت ہے۔یہ جلد ۱۹۷۴ء سے وفات تک کے جلسہ سالانہ کے افتتاحی خطاب دوسرے روز کے خطاب اور اختتامی خطابات پر مشتمل ہے۔ان خطابات کی کل تعداد ۲۴ ہے جن میں سے تعداد۲۴ ہے سے ۱۹ خطابات غیر مطبوعہ ہیں (جن میں سے چار خطابات آڈیو کیسٹس سے ٹرانسکر پٹ (Transcript) کئے گئے ہیں اور پہلی دفعہ شائع کئے جارہے ہیں۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کے مجلس انصار اللہ سے خطابات سبیل الرشاد ( حصہ دوم ) مجلس خدام الاحمدیہ سے خطابات مشعل راہ (حصہ دوم) اور کے خواتین سے جلسہ سالانہ کے دوسرے روز کے اور دیگر اہم مواقع کے خطابات لجنہ اماءاللہ پاکستان نے "المصابیح، کے نام سے الگ شائع کر دیئے ہیں اس لئے انہیں اس جلد میں شامل نہیں کیا جارہا۔جن مقدس وجودوں کو خدائے قادر مقام خلافت پر فائز کرنے کے لئے منتخب فرماتا ہے انہیں اپنی بر معمولی تائید ونصرت سے نوازتا ہے۔ان کی زبانِ مبارک سے حقائق و معارف اور دقائق ولطائف جاری فرماتا ہے۔اس جلد میں مندرجہ ذیل اقتباسات جماعتی نقطہ نگاہ سے خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ہلا جلسہ سالانہ ۱۹۷۴ء کے ولولہ انگیز افتتاحی خطاب میں حضور انور نے فرمایا: پاکستان ہمارا وطن ہے۔اس میں بسنے والے احمدیوں کا یہ وطن ہے۔اس وطن میں اللہ تعالیٰ۔جماعت احمدیہ کا مرکز بنایا ہے۔اس ملک میں بسنے والوں کا ایک فیصد یا نصف فیصد یا چوتھائی فیصد یا اس سے بھی کم ایسا ہے جس میں شرافت نہیں ان کے کہنے سے ہمارا مرکز کسی اور ملک میں نہیں جائے گا۔جس قدر چاہیں وہ افواہیں پھیلاتے رہیں۔ہمارا یہ ملک ہے۔جس طرح ایک لاکھ میں سے ننانوے ہزار نو سوننانوے پاکستانی شریف شہریوں کا یہ ملک ہے، اسی طرح احمدیوں کا بھی یہی ملک