خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 307
خطابات ناصر جلد دوم ۳۰۷ افتتاحی خطاب ۲۶ / دسمبر ۱۹۷۸ء خالص تو حید کو اپنے ذہنوں میں ، اپنے سینوں میں، اپنی روح میں اور اپنی زندگی میں قائم کرو افتتاحی خطاب جلسه سالانه فرموده ۲۶ / دسمبر ۱۹۷۸ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔مہدی معہود اور مسیح محمدی علیہ السلام کے وجود کی سرسبز شا خو! جو پھلوں سے لدی ہوئی اور جھکی ہوئی ہو! میں تم پر قربان اللہ تعالیٰ کے فضل کے ہمیشہ وارث رہو اور اس کی حفاظت میں رہو اور اس کی برکات سے حصہ لینے والے ہو اور اس کی نعماء جو آسمانوں سے برستی اور زمین جنہیں اگلتی ہے بے حد و بے حساب، خدا کرے کہ ان میں سب سے زیادہ حق خدا تعالیٰ کی تقدیر تمہارے حصہ میں رکھے۔تمہارے مالوں میں برکت ڈالے۔تمہارے نفوس میں وہ ہے وہ برکت ڈالے۔تمہاری زبانوں میں تاثیر رکھے۔تمہارے جذبہ ایثار کو ثمر آور بنائے۔تمہاری اس خواہش کو وہ پورا کرے کہ تم خدا اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بنی نوع انسان کے دلوں کو جیتنے والے ہو۔ہمارا یہ جلسہ کوئی دنیوی میلہ نہیں ہے جیسا کہ دورانِ سال بھی اور ہر جلسہ پر نئے آنے والوں کو بتایا جا تا اور پرانے احمدیوں کو یاد دہانی کرائی جاتی ہے، بلکہ یہ وہ جلسہ ہے جس کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت مہدی معہود علیہ السلام نے اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے رکھی تھی اور مقصد یہ تھا کہ یہاں آنے والے خدا اور اس کے رسول کی باتیں غور سے سنیں ، ان کو سمجھنے کی کوشش کریں، ان پر عمل کریں ، ان کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالیں ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر چلنے والے ہوں، ان راہوں کو اختیار کریں جن پر چل کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کریم کے پیار کو حاصل کیا اور ان راہوں پر چل کر وہ بھی اپنی اپنی طاقت اور استعداد کے مطابق اپنے خدا کے پیار کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے والے ہوں۔