خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 308 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 308

خطابات ناصر جلد دوم ۳۰۸ افتتاحی خطاب ۲۶ دسمبر ۱۹۷۸ء اس جلسہ میں شامل ہونے والوں پر ، خواہ وہ باہر سے آنے والے ہوں یار بوہ کے مکین، بہت سی ذمہ داریاں ہیں۔جس طرح ہم میں سے ہر فرد کی زندگی کا ہر پہل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے مطابق اور آپ کے نور سے نور لے کر اس نور کو دنیا پر ظاہر کرنے والا بننا چاہئے اسی طرح ہماری اجتماعی زندگی بھی خالص اسلامی زندگی ہونی چاہئے۔جہاں اونچی آواز سے بولنے کو بھی پسند نہیں کیا مثلاً مسجد میں شور کرنا منع ہے۔مسجد میں شور نہ کرنا چاہئے۔مسجد کو خدا تعالیٰ کے ذکر کے لئے بنایا گیا ہے۔مسجد میں جو باتیں کی جاتی ہیں وہ بھی دین کی باتیں کی جاتی ہیں اور جب ہم کہتے ہیں دین کی باتیں کی جاتی ہیں تو دین اسلام ہماری زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہے۔ہر شعبہ کا اس نے احاطہ کیا ہوا ہے۔ہماری زندگی سے تعلق رکھنے والی ہر صحیح اور نیک بات مسجد میں کی جاتی ہے۔ہم پر ہمارے پیارے رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی احسان ہے کہ آپ نے ہمیں مخاطب کر کے یہ اعلان کیا ( جو قیامت تک قائم اور زندہ رہنے والا اعلان اور عمل کئے جانے والا اعلان ہے کہ جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا ( صحیح مسلم کتاب المساجد ) خدا تعالیٰ نے ساری کی ساری زمین کو میرے لئے مسجد بنا دیا۔پس وہ برکات جو دوسرے مذاہب اپنی اپنی عبادت گاہوں میں جا کر حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، وہ ایک مسلمان زمین کے ہر چپہ سے حاصل کر سکتا ہے، اگر وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلنے والا ہو۔یہ جلسہ گاہ بھی اسی طرح برکتوں والی ہے جس طرح کوئی اور مقام۔یہاں آپ آتے ہیں غور سے سنیں۔آپ سنتے تو ہیں غور سے لیکن بعض دفعہ کوئی بچہ یا نیا آنے والا ( شاذ ) اونچی آواز سے بھی بول دیتا ہے۔اس کو بھی بول دیتا ہے۔اس کو بھی اشارہ سے سمجھانے کا حکم ہے اور بعد میں پیار سے سمجھانے والی بات ہے کہ جلسہ گاہ میں ہم بیٹھتے ہیں سننے کے لئے سمجھنے کے لئے اور یادر کھنے کے لئے۔اس نیت کے ساتھ کہ جو ہم نے سنا اور سمجھا اور یا درکھا اس پر ہم عمل بھی کریں گے اپنی عملی زندگی میں۔یہ ہمارا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے ” ہمارا اس لئے کہ ہمارا مرکز ہے یہاں۔ویسے یہاں سینکڑوں دوست ایسے بھی رہتے ہیں جن کا تعلق جماعت احمدیہ سے نہیں۔بچے ہیں جو احمدی نہیں۔وہ یہاں کے زنانہ اور مردانہ سکولوں اور کالجوں میں پڑھتے ہیں۔ان کے رشتہ دار ہیں وہ