خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 292
خطابات ناصر جلد دوم ۲۹۲ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۷۷ء بھی نہیں ہوگی۔یہ تو خدا تعالیٰ نے تو کہا ہے کہ اس دنیا میں میرا کام ہے کسی کو معاف کرنا یا نہ کرنا وہ علیحدہ ہے لیکن خدا تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ قَذَرَ فَهَدی کہ ہر مرض جسمانی ہو یا روحانی خدا تعالیٰ نے روحانی اگر ہے تو اپنے کلام قرآن مجید میں اندازے کئے ہوئے ہیں کہ ان امراض کا یہ علاج ہے وہ کرو وہ مرض جو ہے وہ دور ہو جائے گی۔جس طرح خدا تعالیٰ نے اندازہ کیا ہے جسمانی امراض کا اور اس کے ایک اور معنی ہیں جو خدا تعالیٰ کی قدرت عظیمہ اور اس کی بلندشان کی طرف دلالت کرتی ہے کہ ہر فرد کا اندازہ مختلف ہے یعنی ہر فرد کے لئے علاج مختلف ہے ایک دفعہ مجھے ہو گیا پاؤں کے زخم ، داد جس کو کہتے ہیں۔نیا نیا آیا تھا ولائت سے پڑھ کے، اخبار میں دعا کے لئے چھپا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان سے پیار کرتی ہے جماعت ، میرے پاس بیسیوں خط آئے اور میرے علم میں بڑی زیادتی ہوئی ایک شخص نے لکھا کہ الف ایک دوائی ہے وہ میں نے بڑی استعمال کی مجھے بھی داد ہو گئی تھی ، بالکل نکمی ہے اور یہ کوئی فائدہ نہیں دیتی میں نے یہ ب دوائی ہے اس کو استعمال کیا مجھے فائدہ ہو گیا آپ الف بالکل استعمال نہ کریں یہ دوائی جو دوسرا نسخہ ہے یہ میں لکھ رہا ہوں یہ آپ استعمال کریں۔اور دوسرے خط میں یہ نکلا کہ میرے داد ہو گئی تھی اور میں نے ب دوائی استعمال کی اس کا کوئی فائدہ نہیں بڑی لکھی دوائی ہے اور آپ یہ کبھی استعمال نہ کریں اور الف دوائی بہت اچھی ہے اور میں نے استعمال کی اور مجھے آرام آیا۔تو ہر فرد کے لئے خدا تعالیٰ نے ، یعنی اتنی عظیم ہستی ہے اور اتنی پیار کرنے والی ہستی ہے کہ ہر فرد کی جو انفرادیت ہے۔انفرادیت جسمانی لحاظ سے بھی پہلے بھی بتایا ہے کہ ہر فرد کے کیمیاوی اجزا جو ہیں وہ بھی مختلف ہیں۔تو ہر فرد کے کیمیاوی اجزا کے مطابق جو دوائی اس کو ملنی چاہئے تھی وہ خدا نے پیدا کر دی۔خدا نے تو یہ اعلان کیا کہ میں نے اپنے بندوں میں سے ایک کی مرض کو بھی نہیں بھولا میں۔ایک فرد ہے اس کو بیماری ہے اس کا بھی علاج میں نے پیدا کر دیا۔تو وہ اپنے بندوں کی روحانی بیماری کو دیکھ کے خاموش ہو جائے یا کسی کو یہ اجازت دے گا کہ ان کی اصلاح کی کوشش نہ کرو بلکہ ان کی اصلاح کے دروازے بند کر دو۔انسان کی پیدائش کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کا ایک زندہ تعلق پیدا ہو جائے اور یہ عبد بننے کے معنی اسلام نے یہ کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا رنگ اس کی صفات پر بھی چڑھے خدا کا ہم رنگ ہو جائے۔ہم خلق ہو جائے۔تخلقوا باخلاق اللہ ہمیں کہا گیا ہے اور تیسرے یہ