خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 291
خطابات ناصر جلد دوم ۲۹۱ اختتامی خطاب ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء بزرگ گاؤں کے جو تھے اپنے جس وقت ڈاکٹر نہیں بنا کرتے تھے یونیورسٹیز میں ، وہ استعمال کرتے تھے ، کن ادویہ کو کس علاج کے لئے۔تو کئی لاکھ نسخے ان کو مل گئے ، اکٹھے کر لئے انہوں نے ، ہر گاؤں میں آدمی بھیج دیئے اپنے سٹوڈنٹس بھیج دیئے میڈیکل کالجز کے اور سکولز کے اور وہ وہاں سے لکھ کے لائے کہ فلاں نے بتایا فلاں بوٹی ہے یہ اس کی شکل ہے تو لوگوں کو یہ بھی حکم تھا کہ وہ اس علاقے میں چونکہ ہوتی ہے تبھی استعمال کر سکتے ہیں اور دیکھیں جا کے اس کو پہچانیں اس کے نقشے بنائیں اس بوٹی کی جو عادت ہے اس کا پتہ کریں، ان عادتوں کا کس موسم میں اگتی ہے، کیا ہے، پھول کیسے آتے ہیں پھل بھی آتا ہے اس کا رنگ کیا ہوتا ہے، پوری تفصیل لکھ کے لاؤ۔کئی لاکھ ادویہ ان کو اس تدبیر کے نتیجے میں مل گئی تو خدا تعالیٰ نے جسمانی ضرورت اور اس کے پورا کرنے کے لئے اسباب جو تھے ان کا ذکر کر کے کہا کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو بنایا تھا روحانی طور پر بلند درجات حاصل کرنے کے بعد اس کے ساتھ ایک زندہ تعلق قائم کرے۔یہ جو جسمانی صحت ہے یہ تو ایک زمینہ تھی بلند ہونے کے لئے تو جب اس زینہ کے متعلق اتنی احتیاطیں برتی گئی ہیں تو جو اصل مقصود ہے تو ان کو کیسے نظر انداز خدا تعالیٰ کر سکتا تھا۔اور اگر خدا تعالیٰ نے لاکھوں راستے ہدایت پانے کے کھولے ہیں تو کوئی ایک راستہ کوئی ایک انسان دوسرے پر نہیں بند کر سکتا، کیونکہ خدا تعالیٰ کی منشا کے خلاف ہے یہ بات۔پھر فرمایا وَ الَّذِي قَدَّرَ فَهَلى (الاعلى :۴) اس کے ایک معنی تو یہ ہیں جو پہلے بھی میں نے بیان کئے۔سورہ فاتحہ کے سلسلے میں کہ ترقی کی استعداد اور کامل قوای بنایا۔انسان کو قابل بنایا یعنی وہ پہلی طاقتیں اور قو تیں اس کو عطا کیں جس سے وہ قابل بن گیا کہ وہ ہدایت پائے اور ہدایت یافتہ ہو اور مطہر ہو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں اور دوسرے اس کے معنی ہیں قدر کے کہ روّی وفكر في تصفية امره جب خرابی پیدا ہو جائے تو خرابی کا اندازہ کر کے اس کے مطابق خرابی دور کرنے اور ہدایت کی تجویز کی خداتعالی نے۔یہاں یہ بتایا کہ ہدایت پانے کے لیے تو خدا تعالیٰ نے بڑی تفصیل میں جا کے انسان کے لئے چھوٹی روحانی اخلاقی بیماری ہے، اس کا بھی علاج بتایا اور درمیانے درجے کی ہے اس کا بھی علاج بتایا، بڑی بیماری ہے اس کا بھی علاج بتایا۔یہ اعلان کر دیا کہ مایوس کبھی نہ ہونا جب تک زندہ ہو آخری سانس ہے اس وقت تک تم اپنی حالت بدل سکتے ہو، یہ ٹھیک ہے، فرعون کو جب نظر آ رہی تھی موت توبہ کی ، تو فرعون کی نہیں تو بہ منظور ہوئی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی اور کی