خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 285 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 285

خطابات ناصر جلد دوم ۲۸۵ اختتامی خطاب ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء۔ہوتا ہے چونکہ بُرے کاموں کا تعلق صرف اس دنیا سے، اچھے جہاں تک نتائج نکل رہے ہیں ، خدا کہتا ہے ٹھیک ہے تم دنیا لینا چاہتے ہو تو لے لو۔لیکن دوسرا گروہ وہ ہے خدا تعالیٰ کی معرفت رکھنے والا اور اپنے ایمان میں اخلاص رکھنے والا جو اتنا في الدُّنْیا (البقرۃ:۲۰۲)۔کہہ کے خاموش نہیں ہو جاتے بلکہ اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً (البقرة :۲۰۲) کے بعد و فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً کی بھی دعا کرتے اور تضرع کے ساتھ ، عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ کوشش اور سعی اور تدبیر میں لگے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ ان دونوں کے مجموعے کے نتیجہ میں یعنی دعا اور تضرع اور توجہ الی اللہ اور اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت اور پھر عملاً کوشش جو ہے پیسے کمانا اور دوسروں پر خرچ کر دینا نیکی ہے خدا نے کہا تھا کہ خرچ کرو خدا تعالیٰ نے کہا تھا کہ مریضوں کا خیال رکھو، خدا تعالیٰ نے کہا تھا کہ مسافروں کا خیال رکھو وغیرہ وغیرہ سینکڑوں اعمال ہیں جن کو ہم اعمال صالحہ کہتے ہیں۔اور دنیا میں بھی یعنی یہ گروہ وہ ہے جو دنیا کے لئے بھی دعائیں کرتا ہے جو دنیا کے لئے بھی خدا کے حضور جھکتا ہے جو دنیا کے لئے بھی یہ خدا سے کہتا، یہ نہیں کہتا کہ مجھے مال دے خدا سے یہ دعا مانگتا ہے کہ مجھے مال حلال دے۔خدا سے یہ نہیں کہتا کہ مجھے کھانے کو دے خدا سے یہ کہتا ہے کہ مجھے حلال اور طیب کھانا دے اور پھر خدا تعالیٰ اس کی دعاؤں کو بھی سنتا ہے اور اس کی جو عملی کوششیں ہیں اور اعمال ہیں ان کو بھی دیکھتا ہے اور اپنے فضل سے اس دنیا میں بھی خیر اور برکت کا نتیجہ نکلتا ہے اور اخروی دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو انعام ملتا ہے۔یہ جو ہے صفت یہ ہے تو دراصل نیکوں کے لئے لیکن قرآن کریم سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ اس میں اگر کوئی بد ہیں اور انسان کو دکھ پہنچانے والے ہیں ان کی کوششیں بھی دنیا کے لیے خدا تعالیٰ نے جو اصول بنائے ہیں۔اور وہ ان کے مطابق ہوں گی تو اس دنیا کے لئے نتیجہ نکل آئے گا اور پھل مل جائے گا لیکن اخروی زندگی میں اتنی سخت گرفت اور شدید العقاب کی طرف سے پکڑ ہو گی کہ جو میں نے بار بار کہا ہے آپ کو اور اب بھی کہوں گا کہ گرفت جو ہے اس کا تصور ہم ایک سیکنڈ کے لئے بھی اگر سوچیں کہ خدا نہ کرے ہم میں سے کسی کو ، رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور جسم کانپ اٹھتے ہیں اس کے۔تو یہ گروہ جو ہے وہ دو طور پر تدبیر کرتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یوں فرمایا اس کے متعلق کہ دعا کو اپنی انتہا تک پہنچاؤ اور تدبیر کو اعمال صالحہ کے ذریعے جو کی جاتی ہے اس کو