خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 284
خطابات ناصر جلد دوم ۲۸۴ اختتامی خطاب ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء ہوئی لیکن دوسرے انسانوں کو نقصان پہنچا۔یہ ایک تدبیر ہے جو باوجود اس کے کہ سارے انسانوں کا فائدہ اس میں نہیں ، بعض کا ہے اور بعض کا نقصان ہے۔اس رحیمیت کا جلوہ صرف کوشش اور جدو جہد اور سعی اور اپنے مقصد کے حصول کے لئے قربانی دینا اس کو پھل اور بنا دیتا ہے اس کا ثمرہ نکلتا ہے نتیجہ اس کا ایک برآمد ہوتا ہے جیسا کہ میں نے کہا کلونیل پاور، میں نائیجیریا میں گیا مجھے بہت دکھ ہوا ایک دو دن میں ہی دیکھ کے، میں نے اپنے احمدی دوستوں کو وہاں نائیجیرین کو کہا کہ تمہارا ملک تو خدا نے اتنا امیر بنایا تھا کہ دنیا کی کونسی چیز ہے، کون سی دولت ہے جو تمہارے پاس نہیں لیکن تم پھر بھی لنگوٹیئے ، غریب کے غریب۔تو میں نے انگریزی میں کہا کہ میرا ایمپریشن (Impression) میرا تاًثر ہے (۔You had all and You were deprived of all تمہیں خدا نے سب کچھ دیا تھا اور سب کچھ ہی چھیننے والے چھین کے لے گئے۔اور تمہارے لیے کچھ بھی نہیں چھوڑا۔یہ جو رحیمیت کا جلوہ ہے یہ سعی کے اوپر، کوشش کے اوپر نتیجہ نکالتا ہے خدا تعالیٰ۔جو اچھا کام ہے اس کا نتیجہ بھی نکلتا ہے اس کے مطابق جو پوری کوشش اور خدائی تدبیر کے مطابق دنیا کمانے کی جو کوشش ہے خدا کی تدبیر کے مطابق ، خدا نے وہ تدبیریں بنائی ہیں خدا کے بنائے ہوئے اسباب کو غلط استعمال کر کے مضر استعمال کر کے ، مگر اپنی طاقت ہے۔جب یہ گئے وہاں لوٹنے کے لئے تو بڑی جانی قربانی دینی پڑی ان کو ، لڑائیاں انہوں نے لڑیں آدمی بھی قربان کر دیئے جسمانی طاقت تھی زندگی تھی طاقت کا سرچشمہ یوں ابلتا ہے انسان کے جسم میں سے اس کے وجود میں سے طاقت نکل رہی ہوتی ہے وہ انہوں نے قربان کی تو جو خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق کوشش کرتا ہے خواہ وہ غلط کوشش ہو اس کا نتیجہ نکل آتا ہے قرآن کریم کہتا ہے کہ جو لوگ دنیا کی محض تلاش میں رہتے ہیں ہم ان کو دنیا دے دیتے ہیں۔اس دنیا میں وہ ، یہ نہیں کہ وہ نا کام کر دیتا ہے خدا۔ان کو کامیاب کر دیتا ہے یا مر جائیں یا خدا پکڑ بھی لے گا۔یہ قانون چل جائے گا اگلی صفت کے ساتھ۔اور ایک وہ کوشش ہے جو آگے دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے وہ رحیمیت کے جو ہیں نا جلوے، رحیمیت کا جو فیضان ہے وہ انسان کی کوشش کو ثمر آور کرتا ہے اور اس کی کوشش اور تدبیر کو ضیاع سے بچاتا ہے۔ناکامی سے محفوظ رکھتا ہے۔اگر وہ قوانین قدرت کے مطابق کی جائیں اور انسان اس صفت کے ماتحت جب کام کر رہا ہوتا ہے تو وہ بُرے بھی کام کر رہا ہوتا ہے اور اچھے بھی کام کر رہا