خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 18 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 18

خطابات ناصر جلد دوم ۱۸ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء محروم کر دیا۔اسی بات کا ذکر میں نے نائیجیریا کے سربراہ مملکت یعقو بو گوون سے کیا۔میں نے اُن سے کہا میرا یہ مشاہدہ ہے تو اُن پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ وہ جذباتی ہو کر انگریزی میں کہنے لگے۔How True you are! How True you are!! How True you are!!! تین بار کہا کیسی سچی بات آپ کہہ رہے ہیں۔میں نے کہا خدا تعالیٰ نے سب کچھ تم کو دیا تھا مگر یہ لوگ سب کچھ لوٹ کر لے گئے اور تم خالی ہاتھ رہ گئے۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات درست ہے کہ جس وقت انگریز انگلستان کے چھوٹے سے جزیرے سے نکل کر ہزاروں میل دور ہندوستان میں بھی آ گیا۔پھر آگے نبی آئی لینڈ تک چلا گیا اور ساری دُنیا کا چکر لگا کر امریکہ میں پہنچ گیا تو اس وقت دل کے کسی گوشہ میں کوئی طاقت کروٹیں لے رہی تھی اور وہ یہی خواہش تھی کہ نوع انسانی کو ایک خاندان کی طرح بن جانا چاہئے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے ان دنیوی طاقتوں کو نوع انسانی کے ایک بنانے کے لئے استعمال نہیں کرنا تھا اس لئے وہ کامیاب نہیں ہوئے اور دُنیا میں نیکی کا بیج بونے کی بجائے فساد کا بیج بو کر ان ملکوں سے اپنے اپنے وقت پر نکل کر پھر اپنے ملکوں یا جزیروں میں چلے گئے۔میں انگریزی دانوں سے بات کرتے ہوئے انگریزی کا یہ فقرہ کہا کرتا ہوں۔"When capitalism refused to share its gain with the common man, it became a reactionary movement۔" خدا تعالیٰ نے سرمایہ دارانہ ملکوں کو جو دولتیں دی تھیں، جب انہوں نے ان کو آپس میں تقسیم کر لینے اور بانٹ لینے کے بعد اُن سے ایک جیسا فائدہ اُٹھانے کی سکیم نہ بنائی تو پھر اُس زمانہ میں وہی طاقت جو بظاہر انسان کے حق میں اُبھری تھی ، وہ انسانیت کے خلاف ہمیں نظر آنے لگی اور اس طرح انسان کا خون بہا۔اسے دُکھ دیا گیا اور انسانیت کو سکھ پہنچانے کی بجائے ساری دُنیا میں ہمیں دُکھی انسانیت نظر آنے لگی۔پھر اس کا ایک رد عمل پیدا ہوا اور روس میں کمیونزم آ گیا جو آہستہ آہستہ انٹرنیشنل بن گیا۔گویا سرمایہ داری کی طرح اشتراکیت بھی ایک بین الا قوامی تحریک بن گئی۔جس سے میں یہی نتیجہ نکالتا ہوں کہ انسان آہستہ آہستہ بیدار ہورہا تھا کہ اُسے ایک خاندان کی طرح زندہ رہنا چاہئے۔