خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 19
خطابات ناصر جلد دوم 19 دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء چنانچہ جب روس میں کمیونزم آیا اور وہ بین الاقوامی تحریک کی شکل اختیار کرنے لگا تو اس نے دُنیا میں یہ اعلان کیا کہ اے انسان! ہم دنیا میں تیری خیر خواہی کے لئے تیرے پاس آ رہے ہیں۔یہ نعرہ پرانا ہے۔غالباً پہلی جنگ عظیم کے معابعد کا نعرہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو ۵۵٬۵۴ سال کے قریب ہو گئے ہیں اور اس عرصہ میں عملاً ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ دنیا میں جو غریب بستے ہیں اُن کی اکثریت ان لوگوں کی ہے جو روس کا نام لے کر تھر تھر کانپنے لگتے ہیں۔پس یہ ردعمل ہے جو دنیا کے غریب آدمی پر کمیونزم یا اشتراکیت کا نام لینے سے پیدا ہوتا ہے اور یہ رد عمل ہمیں بتاتا ہے کہ اشتراکیت گویا نا کام ہوگئی ہے کیونکہ انہوں نے اعلان تو یہ کیا تھا اور بظاہر بڑا پیارا اعلان کیا تھا۔" To each according to his need" یعنی ہر فرد واحد کو اس کی ضرورت کے مطابق دنیا کے اموال دیئے جائیں گے لیکن need یعنی "ضرورت" جو ہے اس کی تعریف کہیں نہیں کی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اپنے ملک کی ضروریات بہت سمجھ لی گئیں لیکن چیکوسلواکیہ، یوگوسلاویہ اور رومانیہ وغیرہ ممالک کے لوگوں کی ضروریات اپنے ملک سے بدتر اور کم تر سمجھی جانے لگیں حتی کہ ایک وقت میں روسی اپنے ٹینک اور تو ہیں لے کر ان ممالک میں داخل ہو گئے۔لیکن اس وقت میں نہ تو تفصیل میں جانا چاہتا ہوں اور نہ میرا مقصد تنقید کرنا ہے۔اس وقت احباب کو صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ اس زمانہ میں انسان کے اندر یہ احساس جاگنے لگ گیا تھا کہ سارے انسانوں کو ایک خاندان کی طرح امت واحدہ بن کر رہنا چاہئے اور اس احساس کے نتیجہ میں پہلے غلط قسم کا ایک سرمایہ دارانہ نظام اُبھرا۔پھر اس کے بعد اشتراکیت آگئی۔اس نے بھی نعرے بہت اچھے لگائے۔وہی نعرے جن کا زمانہ تقاضا کرتا تھا لیکن عمل ان کے برعکس اور نا کام ہو گئے۔پھر اب چین کا سوشلزم نو جوانی میں داخل ہو رہا ہے اور Theoretically‘ بڑا پر ہے۔بظاہر حالات میں سوشلزم بھی ساری دُنیا کو ایک خاندان بنانے کا دعویٰ کرتا ہے۔مگر آئندہ کے متعلق ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ مستقبل کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے ، وہی جانتا ہے کہ سوشلزم کن راہوں کو اختیار کرتا ہے۔بظاہر سوشلسٹوں نے بھی دنیا کے غریب لوگوں کی مدد کا نعرہ لگایا ہے اور جو میں استدلال کر رہا ہوں یہ اس کی دلیل ہے کہ انسان کے اندر یہ احساس بیدار ہو رہا ہے کہ