خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 260
خطابات ناصر جلد دوم ۲۶۰ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء کوئی فائدہ نہیں لیکن یہ جو ساری کوشش ہے کہ کسی طرح اقتصادی تکلیف کو مہنگائی کے نتیجہ میں جو پیدا ہوتی ہے اسے دور کیا جائے اس کے اوپر مجموعی طور پر جو سال نو میں جو بجٹ رکھا ہوا ہے جس کا اکثر حصہ خرچ ہو چکا ہے یہ دس لاکھ چودہ ہزار تین سو باون روپے ہے۔یعنی امداد کارکنان و غیر کارکنان یہ کچھ حصہ اس کا وظائف پر ہے، کچھ بیواؤں پر ہے، کچھ یتامی پر ہے، کچھ زیادہ جن کے بچے ہیں اور آمد کم ہے ان کی بھوک دور کرنے کے لئے ہے۔کارکنوں کو سردی میں بڑی تکلیف ہوتی ہے وہ تھوڑی سی مدد یہ کرتے ہیں مثلاً سردی کی۔ایک تو گندم کی ایک چوتھائی مفت ہر سال کی ضرورت ہر خاندان کی ، خاندان کی ضرورت کا رکن کی نہیں ، ہر کارکن کے پورے خاندان کی خواہ وہ دس افراد پر مشتمل ہو ایک چوتھائی ضرورت مفت اور باقی قرضہ اس کو دیا جاتا ہے تا کہ ستے زمانے میں وہ گندم خرید لے۔دس لاکھ چودہ ہزار روپیہ کچھ سو یہ دی جاتی ہے اور موسم سرما کی میں بتا رہا تھا اگر دومیاں بیوی اور چھ بچے ہیں تو آٹھ افراد ہو گئے ناں تو پچاس روپے فی فرد چار سو روپیہ اس خاندان کو سردیوں کی ضرورت پوری کرنے کے لئے دے دیتے ہیں علاوہ تنخواہ کے اور علاوہ گندم کی امداد کے یہ بعض جو چھوٹی تنخواہ والے وہ تقریبا دو مہینے کی بن جاتی ہے ان کی تنخواہ۔اصلاح و ارشاد تعلیم القرآن: عرصہ زیر رپورٹ میں ایک ہزار پانچ سو ایک واقفین اور واقفات نے وقف عارضی کے تحت کام کیا، یہ وقف عارضی کی سکیم میں نے شروع کی تھی اور بڑی مفید ہے اور اس وقت تک جو پھیلا ہوا زمانہ ہے سارے سالوں کی طرح جمع کی جائے تو یہ چونتیس ہزار فردیعنی اگر کوئی چار دفعہ گیا تو وہ چار دفعہ ہی شمار ہوئے ہیں ایک دفعہ نہیں شمار ہوا تو چونتیس ہزار افراد نے اس زمانے میں یہ کام کیا ہے۔اس کا ڈبل فائدہ ، اس کے دو فائدے ہمیں پہنچے ایک اجتماعی اور ایک انفرادی۔انفرادی واقف کو پہنچا کہ اس کو جب وہ باہر جاتا ہے ناں ایک آدمی، پندرہ دن اس نے رہنا ہے وہ تو اس کی تربیت کے لئے آپ کھانا پکاؤ ان کے اوپر بوجھ نہ بنوکسی کے ہاں سے دعوت بھی نہ کھاؤ وغیرہ وغیرہ یہ شرائط ہیں لیکن باہر جانے سے پہلے جب وہ وقف کرتا ہے، دو مہینے بعد اس نے جانا ہے وہاں، وہ یہ سوچتا ہے کہ جب میں وہاں جاؤں گا تو علمی لحاظ سے ان کے سوالات کے جواب دینے کے لئے مجھے تیار ہونا چاہیئے اس واسطے دو مہینے وہ کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام