خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 261
خطابات ناصر جلد دوم ۲۶۱ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء اور دوسرا لٹریچر پڑھتا ہے یہ بڑا فائدہ ہو جاتا ہے پھر ہر احمدی خدا تعالیٰ سے تھوڑایا بہت اپنی اپنی ہمت اور استعداد کے مطابق تعلق رکھنے والا ہے وہ یہ سوچتا ہے کہ میرے اندر بڑی کمزوریاں ہیں اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر میں کوئی کام نہیں کر سکتا دعاؤں میں لگ جاتا ہے اور بڑے لوگوں نے اس سلسلے میں دعائیں کیں اور بڑے فوائد حاصل کئے خود بھی اور دوسروں کو بھی فوائد پہنچائے اور اس کا علم بڑھ گیا اور اس کو دعا کا زیادہ موقع مل گیا اللہ تعالیٰ کی زیادہ برکتیں اس نے حاصل کر لیں ان دعاؤں کے نتیجے میں اور اس جماعت کو جب باہر سے آدمی آیا تو وہ ویسے ہی اس آدمی کا پہنچنا ہی ان کے اندر ایک زندگی اور حرکت پیدا کر دیتا ہے۔باہر سے آیا ہے کیا اثر لے کر جائے گا۔ہم نمازوں میں سست ہیں ہم آپس میں لڑتے ہیں وغیرہ وغیرہ یعنی ساری جو چیزیں ہیں ان کے سامنے آ جاتی ہیں نمایاں ہو کے پھر وہ تیار ہوتے ہیں اپنی اصلاح کی طرف اور یہ آدمی بھی ان کے ساتھ بھائی بھائی کی طرح تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقوى (المائدة: ۳) کے ماتحت تعاون کرتا ہے اور ان کی اصلاح کرتا ہے بڑا فائدہ ہوا ہے جماعتوں کو لیکن جتنی جماعتیں ہیں ہماری خدا کے فضل سے اتنا بڑا ملک ہے یہ تعداد ان کے لئے کافی نہیں ہے۔اس لئے جو دوست اس طرف پہلے توجہ نہیں کر سکے ان کو میں یہ کہوں گا کہ وہ زیادہ سے زیادہ اس طرف توجہ کریں پندرہ دن کے لئے جانا ہوتا ہے باامر مجبوری ہم استثنائی طور پر ایک ہفتے کی بھی اجازت دیتے ہیں لیکن اصل وقف جو ہے وہ پندرہ دن کا ہے تو نوجوان ہیں طالب علم ، ان کو نکلنا چاہئے باہر ، ان کو چھٹیاں مل جاتی ہیں دو ہفتے سے زیادہ کی۔ان میں سے دو ہفتے ادھر لگا دیں۔ایک تحریک شروع کی گئی تھی تعلیم القرآن کی اس میں ایک دلچسپ چیز نظر آئی گزشتہ جو کلاس ہوئی ہے ناں بڑی خوشکن بھی ہے اور ایک پہلو سے تھوڑا سا افسوس بھی ہوا۔جو کلاس یہاں آئی کلاس میں بچیاں بھی ہماری آتی ہیں۔وہ لجنہ انتظام کرتی ہے ان کی رہائش وغیرہ نگرانی کا اور بچے بھی آتے ہیں نظارت انتظام کرتی ہے ان کا ، پھر اس کلاس میں علمی جو ڈگری ہے اس لحاظ سے اکیس طلباءصرف صرف اکیس طلباء بی اے یا بی اے سے زیادہ تھے، اس بی اے یا بی اے سے زیادہ کی قابلیت کے۔اور ان کے مقابلے میں، اس اکیس کے مقابلہ میں ایک سو سولہ طالبات بی اے یا بی اے سے زیادہ علم رکھنے والی تھیں۔تو بڑی خوشی کی بات ہے دو خوشیاں ہیں ایک تو ہماری بچی جو ہے