خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 259 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 259

خطابات ناصر جلد دوم ۲۵۹ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء لئے یہ دعا کریں۔غانا کے ایک آئے ہوئے ہیں ہمارے احمدی دوست حسن عطا صاحب یہاں بیٹھے ہوں گے بڑے بوڑھے بزرگ ہیں ہمارے پرانے احمدی، ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے مجھے کہنے لگے ہمارے ملک کی حالت بڑی خراب ہے ملک کے لئے دعا کریں۔تو ہم سب کو ان کے ملک کے لئے بھی دعا کرنی چاہیئے۔جیسا کہ ہم دنیا کے ہر ملک کے لئے دعا کرتے ہیں اور ہر انسان کے لئے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ وہاں کی اقتصادی جو تنگیاں اور ترشیاں ہیں وہ دور کر دے اور خوشحالی کے ان کے وہاں سامان پیدا کرے اور ہمارے لئے بھی دین اسلام کو زیادہ پھیلانے کے وہاں سامان پیدا کرے وہاں مغربی افریقہ میں جو تیزی اور شدت پیدا ہوئی ہے ہماری اصلاحی اور تربیتی کاموں میں، اس کا بہت بڑا تعلق نصرت جہاں آگے بڑھو سکیم کے ساتھ ہے وہ علیحدہ عنوان ہے اس میں میں زیادہ تفصیل سے بتاؤں گا آپ کو۔مہنگائی، مہنگائی صرف غانا یانا یجیریا میں نہیں ہمارے ہاں بھی ہے وہاں بعض لحاظ سے تو ہم سے زیادہ ہے کیونکہ غانا سے مجھے ایک دوست نے لکھا کہ اچھی چائے ایک پاؤنڈ ، ہمارے ملک کے لحاظ سے ستر روپے میں ملتی۔ہے۔ستر روپے کا ایک پاؤنڈ۔بڑی مہنگائی ہے اور بڑی تکلیف میں ہیں وہ لوگ۔یہ ٹھیک ہے کہ ان کی تنخواہیں ہمارے مقابلے میں زیادہ ہیں لیکن یہ قیمتیں بھی بڑی زیادہ ہیں۔گوشت بڑا مہنگا، انڈے بڑے مہنگے ، کپڑے بڑے مہنگے بڑی تکلیف میں ہیں۔ویسے پیسہ بھی زیادہ ہے اور وہ تنخواہوں کی شکل میں لوگوں کومل بھی جاتا ہے۔اتنی تنگی نہیں جتنی ستر روپے سُن کے آدمی محسوس کرتا ہے۔ہمارے ملک میں بھی بڑی مہنگائی ہے اور اس کی ذمہ واری غلط اور غیر اسلامی اقتصادی منصوبوں کے اوپر ہے۔اتنا فقرہ میرے خیال میں تنقید کا کافی ہے ہمارے ملک کی جو مہنگائی ہے اس کی ذمہ واری غلط غیر اسلامی اقتصادی منصوبوں پر ہے اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ عطا کرے اور ہم اسلامی تعلیم کے مطابق اپنے منصوبے بنا کر اپنے عوام کی خوشحالی کے سامان پیدا کرسکیں۔اس مہنگائی کا اثر ایک تو مرکز میں یا مرکز سے وابستہ کارکن جو ہیں ، یہ جو نہیں بھی واقف وہ بھی وقف کی طرح اپنی زندگی گزار رہے ہیں ان پہ بھی فرق پڑتا ہے اس واسطے صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید اور تحریک وقف جدید انہوں نے اپنے کارکنوں کے لئے اور خلافت نے غیر کارکنوں کی امداد کے لئے کچھ منصوبے بنائے ہوئے ہیں ان کی تفصیل میں اس وقت میں نہیں جاتا