خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 218 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 218

خطابات ناصر جلد دوم ۲۱۸ اختتامی خطاب ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۶ء خدا کا کلام ہے اور خدا تعالیٰ کے دست قدرت سے نکلی ہوئی ہر چیز بے مثل و مانند ہوتی ہے اس لئے قرآن کریم بھی بے مثل و مانند ہے یہ اتنی عظیم کتاب ہے مگر قرآن کریم ہی کے الفاظ میں۔يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان : ۳۱) امت کے ایک حصہ نے اس کو مہجور بنا دیا عیسائیوں کے مقابلہ میں ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔تم بائیبل کے مقابلے میں قرآن کریم کا نام نہ لو۔کسی عیسائی نے کہا تھا اتنی بڑی الہامی کتاب بائیبل مقدس موجود ہے تو قرآن کریم کے نزول کی کیا ضرورت پڑ گئی تھی۔یہ تو بائیل کے مقابلہ میں ایک چھوٹی سی کتاب ہے آپ نے فرمایا قرآن کریم کا نام نہ لو۔قرآن کریم کے شروع میں سات آیات پر مشتمل ایک سورہ فاتحہ ہے۔سات آیات کی اسر اس سور ہ فاتحہ میں جو اسرار روحانی اور علوم الہیات پائے جاتے ہیں اگر تم ساری کتب مقدس میں سے اسرار روحانی نکال کر ہمیں دکھا دو تو ہم سمجھیں گے کہ تمہارے پاس کچھ ہے لیکن عیسائیت نے اس چیلنج کو قبول نہیں کیا یہ چیلنج ابھی تک اپنی جگہ پر موجود ہے۔اس پیج کو میں نے ۱۹۶۷ء میں یورپ کے دورے میں دہرایا تھا۔چوٹی کے آٹھ عیسائی پادری آئے ہوئے تھے انہوں نے کہا تھا ملاقات کرنی ہے تبادلہ خیال کرنا ہیمیں نے کہا ٹھیک ہے چنانچہ وہ آئے تو ہم ڈیڑھ گھنٹے تک باتیں کرتے رہے۔بعد میں میں نے ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اسی چینج کا انگریزی ترجمہ دیا۔میں نے کہا میں اس کے متعلق بحث نہیں کرنا چاہتا کیونکہ میں چاہتا ہوں تم سوچو تم غور کر تم سر جوڑ و تم مشورہ کرو پادریوں کی دنیا میں۔اور پھر اس چیلنج کو قبول کرو۔یہ نہ کہنا کہ جس نے یہ چیلنج دیا تھا اس کا تو ۱۹۰۸ء میں وصال ہو چکا ہے اگر چیلنج قبول کیا گیا تو کون مقابلے میں آئے گا میں تمہارے مقابلہ میں آوں گا کیونکہ میں ان کا نائب اور خلیفہ ہوں۔یہ ڈنمارک کا واقعہ ہے۔پچھلے سال ڈنمارک کے ایک صحافی یہاں آئے وہ کہنے لگے وہاں کے پادری تو آپ کے خلاف بڑا شور مچا رہے ہیں۔میں نے کہا کیا کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے یوں کہا اور یوں کہا۔میں نے کہا میں نے یوں کہا ہے۔وہ کہہ رہے ہیں کہ سختی کی ہے۔میں نے کہا میں نے ان کو یہ چیلنج دیا تھا لیکن انہوں نے ابھی تک مانا نہیں۔۱۹۶۷ء سے اب تک ایک زمانہ ایک دور گزر گیا وہ بولا اچھا میں جا کر ان کی خبر لوں گا۔پتہ نہیں اس نے خبر لی ہے یا نہیں لیکن یہ ایک