خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 219
خطابات ناصر جلد دوم ۲۱۹ اختتامی خطاب ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۶ء 66 حقیقت ہے کہ ہر آدمی جو اس چیلنج پرصحیح اور نیک نیتی سے غور کرے اس کو ماننا پڑے گا کہ قرآن کریم کا نازل کرنے والا اللہ ہے جو اپنی تمام عظمتوں اور بڑائیوں اور ہرقسم کی جلالت شان والا ہے اور اس نے یہ کہا ہے اور دنیا کو چیلنج دیا ہے کہ قرآن کریم میرا کلام ہے اور اس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔اس وقت عرب میں روسائے مکہ بڑی خوبصورت عربی بولنے والے تھے۔انہوں نے سبعہ معلقہ خانہ کعبہ میں لڑکا رکھے تھے۔عرب میں عربی زبان ایک مثالی زبان تھی بعض دفعہ ہر فقرے کے بعد وہ ایک شعر پڑھ دینے والے لوگ تھے۔ان کو خدا نے کہا تھا کہ ہمت ہے تو اس کے مقابلے میں آکر قرآن کریم کی ایک چھوٹی سی سورت کے مقابلے میں سورت بنا کر دکھا دو مگر انہوں نے اس چیلنج کو قبول نہیں کیا آج تک قبول نہیں کیا اب اگر ایک آدمی یہ کہتا ہے کہ اس عظیم بے مثل و مانند کے مقابلہ میں کوئی چیز تو ہم بیش نہیں کر سکتے لیکن اس بے مثل و مانند کلام کے زمانے دوسرے اللہ کا انکار کر دیتے ہیں تو اگر یہی سمجھ اور عقل ہے تو ہم ان کے لئے دعا کریں گے اللہ تعالیٰ نہیں فراست عطا کرے۔میں بتا یہ رہا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اس عالمین کی ہر چیز میں ایک جوڑ پیدا کیا ہے اور ان جوڑوں میں بھی انتشار نہیں ہے بلکہ جس طرح زنجیر کے مختلف حلقے ایک دوسرے کے اندر جاتے ہیں اسی طرح اس کائنات کی ہر چیز ایک دوسری کے ساتھ بندھی ہوئی ہے پورا عالمین اصول میزان کے اندر بندھا ہوا ہے اور اس کو ہم اپنی زبان میں جوڑ بھی کہہ سکتے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس میں اس وقت سنانا چاہتا ہوں آپ فرماتے ہیں۔خداوند کریم نے جیسا ہر یک چیز کا باہم جوڑ باندھ دیا ہے۔ایسا ہی الہام اور عقل کا باہم جوڑ مقرر کیا ہے اس حکیم مطلق کا عام طور پر یہی قانونِ قدرت پایا جاتا ہے۔کہ جب تک ایک چیز اپنے جوڑ سے الگ ہے۔تب تک اس کے جو ہر چھپے رہتے ہیں۔“ مثلاً میں نے جو مثال دی تھی سارے عالمین اور انسان کی کہ وَسَخَّرَ لَكُمُ مَّا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ اور دوسری طرف انسان کی فِی أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ میں سے گویا ساری یونیورس اور سارے عالمین کے مقابلے میں ایک balance قائم کر لیا گیا ہے۔ایک پلڑے میں انسانی قوتیں ہیں دوسرے پلڑے میں عالمین ہے جو سارے فائدے پہنچا