خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 199 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 199

خطابات ناصر جلد دوم ۱۹۹ دوسرے روز کا خطاب ۱۱ر دسمبر ۱۹۷۶ء میں نے ۱۹۷۰ء میں لندن میں اس کا اعلان کیا تھا۔جتنے پیسے مجھے کہا گیا تھا کہ کم از کم اتنے خرچ کرو۔اس سے دگنے سے بھی کچھ زیادہ خدا تعالیٰ نے رقم دے دی اور جتنے آدمی کہا گیا تھا اس سے دو تین زیادہ مل گئے کیونکہ سولہ کلینکوں کے لئے سولہ آدمی چاہئیں تھے لیکن وہاں انیس ڈاکٹر کام کر رہے ہیں اور جیسا کہ میں نے آپ سے ابھی کہا تھا خدا نے ہمارے ڈاکٹروں کے ہاتھ میں شفا رکھی۔غریب کا علاج تو انہوں نے مفت کیا چنانچہ ان چند سالوں میں ایک لاکھ پنتالیس ہزار تین سو چھپن مریضوں کا مفت علاج کیا گیا اور کل مریض جو علاج کرانے کے لئے آئے ان کی تعداد چودہ لاکھ بیالیس ہزار تین سوسترہ بنتی ہے اس میں سے یہ ایک لاکھ پنتالیس ہزار نکال دیں تو قریباً تیرہ لاکھ مریض ایسا رہ جاتا ہے جن کو خدا نے پیسے دیئے تھے اور وہ اپنے علاج پر خرچ کر سکتے تھے اور جو خرچ کر سکتے ہیں ان کے متعلق اسلام کا یہی حکم ہے کہ ان سے لو اور غریبوں پر خرچ کرو چنانچہ ان سے پیسے لئے گئے اور چونکہ خدا تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں شفا رکھی ہے اس لئے بڑے بڑے ملينر (millionair) لکھ پتی اور کروڑ پتی اپنے بہتر ہسپتال چھوڑ کر جن کی بڑی بڑی عمارتیں اور بہترین سامان تھا اور یورپ سے آئے ہوئے اچھے highly qualified ڈاکٹر تھے ہمارے پاس آ جاتے تھے جبکہ شروع میں تو ہمارے ڈاکٹر کے پاس ایک کچا پکا مکان تھا۔اب تو خیر خدا تعالیٰ نے چودہ ہسپتالوں کی عمارتیں بنادیں اور باقی بن رہی ہیں۔یہ سارے ہسپتال full-fledged بن چکے ہیں لیکن جس وقت بالکل سچی کی عمارتیں تھیں اس وقت بھی امیر وہاں آ جاتا تھا حکومت کا وزیر وہاں آجا تا تھا حکومت کے سربراہ کی بیوی ایک دن اپنے رشتہ داروں کو لے کر ہمارے hut میں پہنچ گئی۔کئی لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیا؟ ان کو خدا نے سمجھ بھی دی ہے مثلاً ایک وزیر سے کسی نے پوچھا کہ تمہیں تو بہت سہولتیں ہیں اس نے کہا ٹھیک ہے، میں وزیر ہوں اور مجھے اپنی حکومت کے ہسپتال میں ہر قسم کی سہولت ہے عمارت اچھی ، کمرے اچھے، نرسیں اچھیں ، کھانے کا انتظام اچھا، میری دیکھ بھال اچھی ، ڈاکٹر ا چھے، یورپ کے پڑھے ہوئے سارا کچھ ہے لیکن میں نے دیکھا ہے کہ شفا وہاں نہیں ملتی۔شفا ان کے پاس آکر ملتی ہے۔اس لئے میں یہاں آجاتا ہوں۔وہاں جو شفا ملتی ہے وہ خدا تعالیٰ نے اسلام کے نام کو بلند کرنے کے لئے جو منصوبہ بنایا ہے اسی کے ماتحت آتی ہے جیسا کہ میں نے شروع میں لمبی تمہید بنائی تھی کہ ہر واقعہ جو رونما ہوا ہے وہ الہی منصوبہ کے ممد اور معاون کے طور پر ہے۔غرض چونکہ وہاں شفا تھی اس لئے امیر لوگ بھی آنے