خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 200
خطابات ناصر جلد دوم دوسرے روز کا خطاب ۱۱ر دسمبر ۱۹۷۶ء شروع ہوئے اور انہوں نے پیسے دینے شروع کئے ابھی آلات جراحی بھی پورے نہیں تھے لیکن ہمارے ڈاکٹروں نے بڑے خطرناک patients کا آپریشن کرنا شروع کر دیا، بجلی نہیں تھی تو مٹی کے تیل کی لالٹین جلا کر آپریشن کر دیا، اگر مثلاً رات کو اپینڈیکس کا تڑپتا ہوا مریض آگیا ہے تو اب اس کا یہ انتظار تو نہیں کرنا تھا کہ صبح تک بچ گیا تو اس کا آپریشن کر دیں گے بلکہ انہوں نے کہا کہ ابھی آپریشن کر دو۔خدا کا نام لیا، دعا کی (بڑے دعا کرنے والے ہیں احمدی ) اور آپریشن کر دیا، اور اس کو آرام آ گیا۔ضرورت کی چیزیں بعد میں ملی ہیں اور ان پر خرچ ہوا ہے اور خدا تعالیٰ نے پیسے اسی لئے دیئے تھے کہ ان قوموں کے امیروں سے پیسے لے کر ان قوموں کے غرباء کے لئے علاج کا سامان پیدا کریں اور دوسرے سامان پیدا کریں۔چنانچہ اس برکت کے نتیجہ میں اس منصوبہ کے ذریعے جس کا سارا سرمایہ تر تین لاکھ اور کچھ ہزار روپے تھا اور جس میں سے ایک حصہ اب بھی ہمارے پاس بچا ہوا ہے یعنی یہ ترپن لاکھ سارا خرچ نہیں ہوا بلکہ کچھ یہاں اور بہت سا بیرونی ممالک میں اس میں بچا ہوا ہے۔تو شروع میں ہمارے پاس یہ سرمایہ تھا اور خدا تعالیٰ نے جو شفا اور مقبولیت رکھی اس کے نتیجے میں ان چند سالوں میں نصرت جہاں کے منصوبہ کے ذریعہ ہیلتھ سنٹروں اور مدارس وغیرہ کے عطایا کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے جو دولت ہمیں دی ہے وہ تین کروڑ باسٹھ لاکھ روپے ہے۔( نعرہ ہائے تکبیر ) اب یہ کوئی نسبت ہے اس سرمائے کی جو آپ نے دیا اس خدائی فضل اور رحمت کی دولت کے ساتھ جو آسمانوں سے نازل ہوئی۔کئی بزرگوں نے کہا تھا کہ کمپنیوں کے حصے خرید لیں اور جو نفع آئے اس میں سے خرچ کیا کریں ان کو میں نے اُس وقت یہی جواب دیا تھا ، اپنی پوری مسکینی اور عاجزی کے احساس کے ساتھ ، کہ جس سے میں تجارت کرنا چاہتا ہوں وہ بغیر حساب کے دیا کرتا ہے اور دیکھ لو بغیر حساب کے دے دیا۔سرمایہ جو سارا لگا بھی نہیں وہ تر تین لاکھ اور جو خدا نے ڈاکٹروں کے ہاتھ میں شفا رکھی یا جو تھوڑا بہت سکولوں کی فیسوں وغیرہ سے ملا وہ تین کروڑ باسٹھ لاکھ ستر ہزار روپے ہے۔یعنی جو اصل سرمایہ تھا اس سے تین کروڑ دس گیارہ لاکھ روپے زیادہ ، اصل سرمائے سے تین کروڑ اور کچھ لاکھ روپے زیادہ۔یہ آسمانوں سے آیا ہے۔یہ کسی اسرائیلی حکومت نے نہیں دیا، یہ کسی سرمایہ دارانہ حکومت نے نہیں دیا یہ کسی اشترا کی حکومت نے نہیں دیا یہ اُس حکومت نے دیا ہے جس کے لئے سارے انسان برابر ہیں اور جس نے مساوات محمدی پیدا کرنے کے لئے جماعت احمدیہ کو قائم کیا ہے۔( نعرہ ہائے تکبیر اور اسلام زندہ باد اور احمدیت زندہ باد کے نعرے)