خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 198
خطابات ناصر جلد دوم ۱۹۸ دوسرے روز کا خطاب ۱۱ر دسمبر ۱۹۷۶ء کی وساطت سے تعلیمی وظائف بھی دیئے ہیں۔اب میں اس موضوع کی طرف آ گیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا فضل، جو دولت ہمیں آسمانوں سے دیتا ہے اس کا ذکر کیا جائے یا نہ کیا جائے تو میں نے کہا ہے کہ اس دعا سے کیا جائے کہ اس ذکر کے نتیجہ میں حسد نہ پیدا ہو اور اس دعا سے کیا جائے کہ اس ذکر کے نتیجہ میں بدظنی نہ پیدا ہو۔چونکہ معرفت الہی کمزور ہو گئی ہے اس لئے لوگ یہ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ خدا تعالیٰ بھی دولت دے سکتا ہے۔ان کو یہ غلط فہمی ہے کہ صرف انسان دولت دیتے ہیں لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ صرف خدا دیتا ہے انسان تو صرف ذریعہ بنتا ہے، کبھی کوئی کبھی کوئی ذریعہ بن جاتا ہے لیکن اصل رزاق خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔پھر انسان جس شکل میں دیتا ہے وہ بھی محدود ہے لیکن خدا نے ہمیں کہا کہ إِنَّ اللهَ يَرْزُقُ مَنْ يشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابِ (ال عمران: ۳۸) پس جو بغیر حساب کے دینے والا ہے اسی کا در ہم کھٹکھٹاتے ہیں اور اسی کے در سے ہم پاتے ہیں۔خدا ہمارے بھائیوں کو بدظنی اور حسد سے محفوظ رکھے۔اس کے بعد میں آپ کو بتاتا ہوں کہ نصرت جہاں ریزروفنڈ میں اندرون پاکستان چھپیں لاکھ انتیس ہزار نو سو چورانوے روپے کی آمد ہوئی تھی اور بیرون پاکستان اٹھائیس لاکھ چوبیں ہزار آٹھ سو چونسٹھ روپے کی۔یہ کل تر تین لاکھ چون ہزار آٹھ سو اٹھارہ روپے کی رقم بنتی ہے۔ہم نے خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس سکیم کو دعاؤں سے شروع کیا۔میں نے افریقہ کے دورے کے بعد پہلے لندن میں اس کا اعلان کیا تھا۔ان کو میں نے یہ کہا کہ خدا نے مجھے یہ کہا ہے کہ کم از کم ایک لاکھ پاؤنڈ ان لوگوں کی خدمت پر مزید خرچ کرنے کا منصوبہ بناؤ۔یہ رقم جو میں نے بتائی تھی اس وقت کے لحاظ سے یہ قریباً دو لاکھ پاؤنڈ بنتی ہے۔میں نے لندن میں اپنے دوستوں سے کہا کہ مجھے یہ فکر نہیں کہ یہ روپیہ کہاں سے آئے گا، نہ مجھے یہ فکر ہے کہ ہسپتال کلینک اور سکول کھولنے کا جو حکم ہے ان میں کام کرنے والے کہاں سے آئیں گے کیونکہ جب خدا نے کہا ہے کہ یہ کرو تو خدا خود دے گا۔مال بھی دے گا اور آدمی بھی دے گا۔جس چیز کی مجھے اور تمہیں فکر چاہئے وہ صرف یہ ہے کہ جو حقیر نذرانہ ہم خدا کے حضور پیش کریں خدا اسے قبول بھی کرے گا یا نہیں۔اس واسطے دعائیں کرو کہ تمہیں خدا تعالیٰ کی راہ میں ایثار اور قربانی کی تو فیق بھی ملے اور ہمارا پیارا ربّ پیار سے قبول بھی کرلے اور ہماری غلطیوں کو نظر انداز کر دے۔