خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 185 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 185

خطابات ناصر جلد دوم ۱۸۵ دوسرے روز کا خطاب ۱۱ر دسمبر ۱۹۷۶ء ادھر اُدھر دیکھا اور کہا اچھا اس طرح رکوع کرتے ہیں پھر وہ رکوع میں گئے۔پھر جب کھڑے ہوئے تو پھر انہوں نے اِدھر اُدھر دیکھا اور کھڑے ہو گئے۔پھر جب سجدہ میں گئے تو وہ بھی ادھر اُدھر دیکھ کر سجدہ میں گئے۔انہوں نے پوری نماز اس طرح پڑھی اور اسی طرح پڑھ رہے ہیں کیونکہ ان کو تو پتہ نہیں۔بہر حال وہ ساتھ شامل ہو گئے۔صرف اس اعلان پر جو قرآن کریم نے کہا ہے، بڑا عظیم اعلان ہے صلح اور امن اور سلامتی کا اعلان کہ اَنَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ (الجن: ١٩) - قرآن کہتا ہے کہ مسجد خدا کا گھر ہے خدائے واحد و یگانہ کی ایک خدا کی اگر کوئی پرستش کرنا چاہے تو خواہ وہ کسی مذہب کسی خیال کسی عقیدہ کا ہو میرے گھر کے دروازے اس کے لئے کھولو۔مسجد کو خدا نے آ کر تو نہیں سنبھالنا تھا وہ عظیم ہستی ہے وہ مادی چیز تو نہیں اس واسطے فتنہ وفساد کو دور کرنے کے لئے قرآن کریم نے اعلان کیا کہ مسجد کا کسٹوڈین وہ ہے لَمَسْجِدٌ أَيْسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمِ التَّوبة : ١٠٨) مسجد کا کسٹوڈین اور اس کا متولی وہ ہے جو مسجد کی نیت سے خدا کا وہ گھر بناتا ہے۔کسی اور کو وہاں آ کر فتنہ کھڑا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔قرآن کریم کو کوئی نہ مانے تو اس کی مرضی مگر قرآن کریم نے فتنہ کا دروازہ بند کر دیا ہے قرآن کریم نے کہا کہ جس نے مسجد بنائی ہم اس کو مسجد ہی کہیں گے یعنی اگر کوئی گروہ ایسا ہے کہ خدا کی نگاہ میں بھی اس کی مسجد قابل قبول نہیں تو قرآن کریم نے علان کیا کہ تب بھی خدا اسے مسجد ہی کہے گا اور جو مجھ سے پیار کرنے والے ہیں وہ اسے مسجد ہی کہیں گے۔باقی اگر کسی کی نیت میں فتور ہے تو میں آپ ہی سمجھ لوں گا اس کے ساتھ۔تمہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔پس ایک تو یہ کہ مسجد بنانے والا اس کا متولی ہے۔یہ اعلان کیا ہے قرآن کریم نے۔قرآن عظیم بڑی عظیم کتاب ہے۔شرط یہ ہے کہ ہم اس کو اپنے لئے مشعل راہ بنا ئیں۔چنانچہ میں نے بتایا ہے کہ دس ہزار آدمی اب تک ہمارے ساتھ نماز پڑھ چکا ہے اور کوئی فتنہ نہیں کوئی فساد نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد، مسجد نبوی، دنیا کی مقدس ترین مساجد میں سے ایک ہے بلکہ کہنا چاہئے کہ سب سے زیادہ مقدس ہے وہاں آپ نے نجران کے یونیٹیر ین(unitarian) یعنی موحد عیسائیوں کو کہا کہ عبادت کا وقت ہے یہیں کرلو۔یہ بھی ایک روایت ہے کہ بعض صحابہ نے وہاں نماز پڑھنے پر اعتراض کیا آپ نے فرمایا کہ تم کون ہوتے ہو اعتراض کرنے والے یہیں پڑھیں گے ، اپنی عبادت یہیں کریں گے۔آپ کی سنت نے سارے مسئلے حل کر دیئے ہیں۔