خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 186 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 186

خطابات ناصر جلد دوم ۱۸۶ دوسرے روز کا خطاب اار دسمبر ۱۹۷۶ء ردے دو۔وہ 1 میں بتا یہ رہا ہوں کہ صد سالہ جوبلی میں آپ کی قربانی کو خدا نے قبول کیا اور گوٹن برگ کی ایک خوبصورت مسجد اور مشن ہاؤس ہمیں پہلا پھل مل گیا۔بعض تصویر میں بھی چھپی ہیں اس دن بہت سارے آدمیوں نے بیعت کی اور جماعت احمدیہ میں داخل ہوئے۔اچھے امیر آدمی بھی اور اوسط درجے کے بھی۔ایک شخص کا ریسٹورنٹ ہے اور وہ بڑا امیر ہے۔ریسٹورنٹ چلانے والے، کھانے کے ہوٹل چلانے والے آجکل بڑے امیر ہیں۔دنیا کھانا تو نہیں چھوڑ سکتی خواہ کتنی مہنگائی ہو جائے۔چنانچہ اس نے بیعت کی اور میرے ہاتھ میں ایک کاغذ سا پکڑا دیا میں نے دیکھا تو وہ نوٹ تھا حالانکہ اس وقت وہ بیعت کرتا ہے۔کمال یوسف صاحب ہمارے مبلغ ہیں میں نے ان کو بلایا اور کہا کہ یہ اس کا چندہ ہے۔اس نے میرے ہاتھ میں پکڑایا ہے اس کو رسید لکھ کر دے شخص ایک ہزار کرونا یعنی کئی ہزار روپیہ بیعت کرتے وقت مالی قربانی کر گیا۔اس سے پہلے اس نے دوروپے نہیں دیئے ہوں گے قرآن کریم کی اشاعت میں۔یہ تبدیلی ہے جو آناً فاناً ، فوری طور پر احمدیت کی برکت سے انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے۔دولیڈ رٹائپ احمدی ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے علاقے میں ہمارا اتنا اثر ہے کہ ہم جا کر تبلیغ کریں گے اور جماعت احمدیہ کے ہاتھ میں معقول تفسیر قرآنی ہے ( یہ ان کا بیان میں بتا رہا ہوں۔جو میرا بیان ہے وہ تو اور ہی ہے، اس سے بھی بڑا ) اتنی معقول ہے یہ تفسیر کہ ایک نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ کئی لاکھ یوگوسلا و جو یورپ کے مختلف ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں ان میں سے ایک بھی اسلام سے باہر نہیں رہے گا لیکن ہماری زبان میں ان تک یہ تفسیر پہنچانے کا انتظام کرو اور انشاءاللہ جلد ہو جائے گا۔صد سالہ جو بلی سے میں نے شروع کر دیا ہے۔اس کا خدا نے ہمیں پہلا پھل دیا۔اور میرا خیال ہے کہ پہلا پر لیس بھی دو ایک مہینے کے اندر اندر ہمیں مل جائے گا۔امریکہ میں ایک منصوبہ بنایا تھا ( حضور نے امریکن وفد کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کے پاس آدھا وقت رہ گیا ہے ) اب تین مہینے کے اندر اندر انہوں نے منصوبہ complete کرنا ہے۔وہاں پریس کے سلسلہ میں بھی بڑی سہولتیں ہیں امریکہ میں بڑی آزادی ہے وہاں صحیح معنی میں جمہوریت ہے کوئی روک ٹوک نہیں۔وہاں ہمارا پر لیس ہو تو وہاں سے ساری دنیا میں لٹریچر بھجوایا جا سکتا ہے۔پھر کہتا ہیں ہیں۔پریس تو کتا بیں شائع کرنے کا آلہ ہے ان کے مکمل ہونے تک مزید رقمیں جمع