خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 184
خطابات ناصر جلد دوم ۱۸۴ دوسرے روز کا خطاب ۱۱ر دسمبر ۱۹۷۶ء تانتا بندھا ہوا ہے صبح سے لے کر شام تک آتے رہتے ہیں۔ایک متعصب قلم نے یہ لکھ دیا کہ اسلام میں عورت کو مسجد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے، مسجد نا پاک ہو جاتی ہے اور ایک اور فضول سی بات لکھ دی اس کو تو میں چھوڑتا ہوں۔اس پر عورتیں وہاں تما شا د یکھنے کے لئے آنے لگیں کہ کیا ایسی بھی کوئی عبادت گاہ ہے جہاں عورت داخل نہیں ہو سکتی۔یہ دیکھنے کے لیے آتی تھیں لیکن جب وہاں پہنچتی تھیں اور ہمارے آدمی کہتے تھے کہ بوٹ اتارو جوتیاں اتارو اور اندر چلی جاؤ تو وہ کہتیں کہ ہیں؟ اندر جا سکتی ہیں ہم؟ اس کی اجازت ہے ہمیں؟ ہمارے اخبار نے تو یہ لکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ اجازت کیوں نہیں۔اندر جا کر دیکھو۔پھر وہ اندر جاتیں۔مسجد خدا کا گھر ہے میرا تیرا گھر تو نہیں وَ اَنَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ (الجن : ۱۹) اور اس کے درودیوار میں اور اس کے فرش میں ، اپنے اس گھر میں خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے برکتیں رکھی ہیں۔سادہ سی ایک جگہ ہے۔کوئی یہ دیکھ کر کہتا ہے کہ اچھا؟ ایسی سادہ کہ جہاں کوئی تصویر ہی نہیں لڑکائی ہوئی۔انہوں نے تو خداوند یسوع مسیح کی اور حواریوں کی اور مریم کی تصویروں سے اپنے گر جاؤں کو سجایا ہوا ہے لیکن یہاں خدا کا ذکر اور اس کی یاد ہے۔آدمی اس کے عشق میں مست ، گم سم ، دنیا جہان سے بیزار وہاں بیٹھا ہوا ہوتا ہے اس کو کسی اور چیز کی کیا ضرورت ہے۔یہ چیز میں اثر کرتی ہیں۔میں نے ۱۹۶۷ ء میں ڈنمارک میں یہی اعلان کیا کہ اَنَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ اور اس وقت تک دس ہزار سے زیادہ غیر مسلم ہمارے ساتھ کھڑے ہو کر نماز میں شریک ہو کر نماز پڑھ چکا ہے۔ہم خوش ہیں کہ خدا کے وہ بندے جنہوں نے خدا کی معرفت حاصل نہیں کی لیکن ان کے دماغوں میں خدائے واحد و یگانہ کا اندھیرا سا تخیل موجود ہے انہوں نے ہمارے ساتھ کھڑے ہو کر خدا تعالیٰ کی عبادت کی۔ان کو یہی کہا گیا تھا کہ اگر ایک خدا کی پرستش کرنا چاہتے ہو تو یہ دروازے تمہارے او پر بند نہیں ہوں گے یہاں آ کر اپنے عقیدے کے مطابق جس طرح مرضی خدائے واحد و یگانہ کی عبادت کرو۔شرک کی اجازت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر خدائے واحد و یگانہ کی عبادت کرنی ہے تو ان کے ساتھ کھڑے ہو کر کیوں نہ کر لیں۔وہ ساتھ کھڑے ہو گئے۔جس دن افتتاح تھا میں نے افتتاح کے ساتھ ہی جمعہ پڑھایا۔اس دن تو یہ ہوا کہ تین سو غیر مسلم ہمارے ساتھ کھڑا ہو گیا۔انہوں نے ادھر اُدھر دیکھ کر عبادت کی۔جب رکوع میں گئے تو ان کو کچھ پتہ نہیں تھا انہوں نے