خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 7
خطابات ناصر جلد دوم افتتاحی خطاب ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۴ء ملاقات کیا کرتا تھا جب وہ میری مجلس سے اُٹھتے تھے تو اُن کے چہروں پر بشاشت کھیل رہی ہوتی تھی اور وہ چھلانگیں مارتے واپس چلے جاتے تھے۔پاکستان میں جماعت کے افراد کا جو نقصان ہوا ہے ۱۹۴۷ء میں صرف قادیان میں میرا خیال ہے اگر ہزار گنا نہیں تو سو گنا یقیناً زیادہ تھا۔دوستوں نے باہر سے کما کر وہاں نئے نئے مکان بنائے ہوئے تھے اور وہ سارے سال کی اجناس سے بھرے ہوئے تھے۔کیونکہ نئی گندم آ گئی تھی۔سکھوں اور ہندوؤں نے ایک محلے کے بعد دوسرے محلے کے مکان کوٹ لیے۔فوج اور پولیس اُن کے ساتھ تھی۔ہم اپنے تن کے کپڑے لے کر وہاں سے نکلے تھے۔یہ کوئی فخر کی بات نہیں۔میری اُن دنوں ذمہ داری تھی۔حفاظت مرکز کا کام حضرت مصلح موعود درضی اللہ عنہ نے میرے سپرد کیا ہوا تھا۔اس کام کی انجام دہی کے دوران ایک دن مجھے اطلاع ملی کہ سکھ اور ہندو جتے آئے ہیں اور انہوں نے مسجد اقصیٰ قادیان کے مغرب میں واقع ایک محلہ کوگھیرے میں لے لیا ہے جس میں زیادہ تر ایسے گھرانے آباد تھے جو احمدی نہیں تھے اور باور دی مسلح ہندو اور سکھ پولیس جتھوں کے ساتھ ہے اور ناکہ بندی ایسی کر رکھی ہے کہ ایک شخص بھی باہر نہیں جا سکتا اور گھیرا ڈالنے کے بعد اب اندر داخل ہورہے ہیں۔مجھے بڑی فکر پیدا ہوئی۔اس لیے نہیں کہ وہ جماعت احمد یہ سے تعلق رکھتے ہیں کیونکہ جماعت سے تو اُن کا کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ اس لیے تشویش پیدا ہوئی کہ وہ تمام لوگ ہمارے محبوب آقا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف خود کو منسوب کرنے والے تھے اور جو شخص خود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرے اس سے ہزار اختلاف کے باوجود کوئی شخص جو خود کو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے والا ہے اُس کو بے سہارا نہیں چھوڑ سکتا۔یہ ایک احمدی کے دل میں اپنے محبوب آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غیرت کا برملا اظہار ہے۔غرض اُس محلے تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں تھا ایک چھوٹی گلی تھی اس کے اوپر ہم نے گیلیاں رکھیں اور ایک پل بنایا اور اس کے ذریعہ ہم نے وہاں رضا کار بھجوائے۔جب ہمارے رضا کار وہاں گئے تو پولیس نے دو آدمیوں کو شوٹ کر کے وہاں شہید کر دیا لیکن دو آدمیوں کی موت آٹھ سو یا ہزار افراد کی زندگیوں سے زیادہ قیمتی نہیں تھی اس لیے ہمارے اور رضا کاروہاں پہنچ گئے اور اُن لوگوں سے کہا کہ چھوڑو ہر چیز اور اپنی جانوں کو