خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 8 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 8

خطابات ناصر جلد دوم افتتاحی خطاب ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۴ء بچاؤ۔چنانچہ عورتیں بچے اور مرد گھروں سے نکلے اور ایک چھوٹے سے پل پر سے ہوتے ہوئے ہمارے علاقے میں آگئے۔یہ جو آٹھ سو یا ہزار جانیں بچائی گئیں ان میں تین چارسو مستورات تھیں۔اُن کے لیے ہم نے دار سیح میں حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کی حویلی کے اندر ایک اور حویلی تھی ، وہ خالی کروائی۔بڑی اچھی صاف ستھری صحن اور بڑے بڑے کمرے تھے غسل خانے ، پانی سب کچھ تھا عورتوں کو وہاں ٹھہرایا گیا۔باہر رضا کار مقرر کر دئیے۔اب بارشیں شروع ہو گئیں۔تو بیچاری غریب عورتوں کو جو ایک ایک کپڑے میں اپنے گھروں سے نکلی تھیں جب بارش میں باہر کام کرنا پڑتا تھا تو کپڑے گیلے ہوئے اور پھٹ گئے۔ایک دن رضا کار میرے پاس آئے اور کہنے لگے۔ہم وہاں کام نہیں کر سکتے۔میں بڑا حیران ہوا کہ ان کے دماغ کو کیا ہو گیا ہے۔کام سے کیوں انکار کر رہے ہیں۔میں نے اُن سے پوچھا کیا ہوا؟ کیا کسی نے تمہیں کچھ کہا ہے؟ وہ کہنے لگے عورتوں کے تن پر صرف چیتھڑے رہ گئے ہیں کسی کام کے لیے وہ تھوڑا سا پردہ اُٹھاتی ہیں تو ان کے جسم کے بعض حصے ڈھپنے نہیں ہوتے۔ہم وہاں کام نہیں کر سکتے۔اب میں وہاں تین چارسو جوڑے کہاں سے لاتا۔اگر بنواتے بھی تو اول تو درزی ہی کوئی نہیں تھا۔اگر ہوتا بھی تو شاید دو مہینے لگ جاتے۔دو مہینے اُن کو کپڑوں کے بغیر تو نہیں رکھا جا سکتا تھا۔میں نے سوچا کیا کروں میرے اپنے گھر میں منصورہ بیگم کے جہیز کے کپڑے تھے جو نواب محمد علی خاں صاحب نے بڑے قیمتی قیمتی جوڑے شادی کے وقت دیئے تھے، ڈیڑھ ڈیڑھ دو دو ہزار روپے ایک جوڑے کی قیمت ہو گی۔میں نے سوچا میں ذمہ دار ہوں۔اگر میں نے پہلے اپنے صندوق نہ کھلوائے تو میرے اوپر جائز اعتراض ہو گا۔چنانچہ میں نے اپنے گھر کے زنانہ کپڑوں کے سارے صندوق کھلوا کر کپڑے عورتوں کے لیے بھیج دیئے اور ایک جوڑا بھی اپنے پاس نہیں رکھا۔مجھے پتہ تھا کہ ابھی اور مانگ ہوگی۔کیونکہ ابھی تو کچھ تھوڑی سی ضرورت پوری ہوئی ہے اور بہت سی عورتیں اسی طرح پھر رہی ہیں پھر میں نے کہا اب میرا ضمیر صاف ہے۔میں نے اپنی بہنوں کے صندوقوں کے تالے تڑوا دیئے۔بھائیوں کی بیویوں حتی کہ اپنی ماؤں اور چچیوں سب کے صندوق کھول کر کپڑے ان عورتوں کو دے دیئے اور اس طرح اُن کا تن ڈھانپا۔اس لیے کہ انسان کا انسان سے خدا نے تعلق قائم کیا ہے اور جو غیرت ہمارے دلوں میں حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے