خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 76
خطابات ناصر جلد دوم ۷۶ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۴ء ان درختوں کے پتے موسم بہار میں گریں گے ہر پتے کو ایک علیحدہ حکم بھی آتا ہے کہ گر جا اور تب وہ گرتا ہے ورنہ نہیں گرتا۔وہ قانون اپنی جگہ اور یہ اپنی جگہ۔میں نے سوچا اور میں آپ کا بڑا منون ہوں کہ آپ کے لئے سوچتا ہوں اور اللہ تعالی علم دے دیتا ہے میں نے سوچا کہ کوئی فرق ہونا چاہئے ایسا کیوں ہے، یہ خدا تعالیٰ کی کیا حکمت ہے، تو آج صبح ہی میرے دماغ میں یہ آیا کہ حکمت یہ ہے کہ اگر قوانین قدرت نہ ہوتے یعنی اگر انسان کو یہ یقین نہ ہوتا کہ آگ ہمیشہ جلائے گی اور گرمی پیدا کرے گی تو انسان علمی ترقی نہ کر سکتا۔یہاں تو شاید اتنی نہیں، لاہور کے رستے میں انڈسٹریز ڈیویلوپ ( develop) ہو گئی ہیں لیکن میں نے بعض دوسرے ملکوں کی تصاویر دیکھی ہیں کہ میل ہا میل تک کارخانے ہیں بلکہ پچھلے سال میں گیا تو دریائے رائن کے کنارے پر ہم فرینکفرٹ جا رہے تھے تو راستے میں پچاس میل کا ٹکڑا ایسا تھا کہ کارخانہ، کارخانہ، کارخانہ، کارخانہ۔پتہ نہیں کتنے ہزار کا رخا نہ تھا اور چمنیوں میں سے دھواں نکل رہا تھا یہ آگ اگر گرمی پیدا نہ کرے تو انسان کا علم ترقی نہیں کر سکتا کہ کبھی تو وہ برف جما دے اور کبھی وہ پارے کو چار سو فارن ہائیٹ تک لے جائے۔اگر اس قسم کا قانون ہوتا تو ہم علمی ترقی نہ کر سکتے تو اللہ تعالیٰ نے قوانین قدرت میں دنیا کو اپنی مخلوق کو باندھا اور اس طرح پر انسان کو یہ موقع دیا کہ وہ علمی ترقی کرے اور اگر صرف قانونِ قدرت ہوتا مثلاً یہ کہ شیشم خزاں میں (آجکل) پتے جھاڑے گی یا پاپولر کا درخت ہے اگر یہ ہوتا کہ ضرور پتے جھاڑے گی کوئی استثناء نہیں ہے تو پتہ ہے کیا ہوتا؟ انسان کو دعا کی ضرورت نہ ہوتی تو خدا تعالیٰ نے انسان کے علاوہ اپنی کا ئنات کو جسے انسان کا خادم بنا دیا تھا قوانین قدرت میں جکڑ کر انسان پر اس کی علمی ترقیات کے دروازے کھول دیئے جتنی علم کی ترقی اور سائنس کی ترقی اور انڈسٹریز کی ترقی ہے وہ اس بنیاد کے اوپر ہے کہ قوانین قدرت میں عام حالت میں فرق نہیں پڑا۔میں عام حالات اس طرح کہتا ہوں کہ خاص حالات میں خدا تعالیٰ کا اپنے پیاروں سے جو پیار ہے وہ اس کا ان کے لئے اظہار کرتا ہے۔آگ عام طور پر ہمیشہ جلاتی ہے لیکن اسی آگ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلانے سے انکار کر دیا اور یہی آگ ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ میں مداری تو نہیں کہ دنیا کو یہ تماشہ دکھاؤں کہ تنور میں جا کر چھلانگ لگاؤں اور میرا جسم محفوظ رہے کیونکہ خدا تعالیٰ کے انبیاء اس قسم