خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 567 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 567

خطابات ناصر جلد دوم ۵۶۷ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۱ء خدا بیٹھتا ہے بلکہ عرش اللہ تعالیٰ کی دو بنیادی صفتیں ہیں جن کے اندر پھر بہت ساری صفات ہیں۔اُن میں سے ایک کا نام عرش ہے۔عرش جو ہے وہ وراء الوراء مرتبہ اور جو تنزیہی صفت ہے اللہ تعالیٰ کی اُس کو ہم عرش کہتے ہیں۔یہ مرتبہ کا نام ہے، کسی مخلوق تخت پوش کا نام نہیں جہاں کوئی شخص بیٹھ جاتا ہو۔تھوڑی سی تفصیل، لمبی تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔خدا تعالیٰ کا انسان کے ساتھ ہونا اور ہر ایک چیز پر محیط ہونا ایک خدا کی تشبیہی صفت ہے۔خصوصا انسان۔اس لئے کہ جب خدا تعالیٰ نے یہ کہا کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الدريت : ۵۷) کہ میں نے جن و انس کو اس لئے پیدا کیا کہ میری صفات سے متصف ہوں۔میری صفات کا رنگ اپنی صفات کے اوپر چڑھائیں قریب آ گیا ناخدا۔تو خدا کا انسان کے ساتھ ہونا اور ہر ایک چیز پر محیط ہونا خدا کی ایک تشبیبی صفت ہے۔اشتباہ پڑ گیا نا۔خدا رحیم ہے انسان بھی رحیم ہے۔خدا رب ہے اپنی پوری عظمتوں کے ساتھ۔انسان بھی رب ہے اپنے گھر میں اپنے بچوں کی تربیت کرتا ہے۔ربوبیت کرتا ہے۔ان کی ضرورتوں کو بڑے مخصوص۔محدود بڑے چھوٹے دائرہ کے اندر کر رہا ہے لیکن رب کے ساتھ مشابہت اختیار کر لی۔دوسری کائنات کی اشیاء نے بھی خصوصا انسان نے اپنی صفات میں خدا تعالیٰ کی صفات سے ایک مشابہت پیدا کر لی۔اس لئے ایک اور بد مذہبی پیدا ہوئی۔بعض لوگ یہ کہنے لگے ان تشبیہی صفات کو دیکھ کر کہ خدا بھی کریم۔انسان بھی کریم۔خدا بھی خالق۔انسان نے بھی موٹریں بنالیں۔ہوائی جہاز بنالیے وغیرہ وغیرہ۔یہ جو صفات اس کی ہماری زندگی پر ظاہر ہوئیں خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ میں بڑا بزرگی اور طہارت کا سر چشمہ ہوں۔تو خدا کے بزرگ بندوں میں پاکیزگی پیدا ہو گئی۔ہم شکل ہو گئے ایک لحاظ سے تو اس سے یہ بد مذہب نکلا کہ انسان عین خدا ہے۔یعنی کوئی فرق ہی نہیں رہا باقی۔وہ خدا ہی ہے۔تو اس چیز سے انسان کو محفوظ کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنی ایک دوسری بنیادی صفت کو بیان کیا۔خدا تعالیٰ نے کہا کہ میری صفات سے مشابه صفات میری خواہش اور مرضی اور حکم سے تمہارے نفسوں میں پیدا ہوتی ہیں لیکن تم خدا نہیں بن جاتے اور یا درکھو اس کا ثبوت یہ ہے کہ میری تنزیہی صفات بھی ہیں۔جن کا تعلق کسی مخلوق کے ساتھ نہیں اور وہ اپنے جلوے دکھا رہی ہیں اور یہ جو تنزیہی اور تشبیہی صفات تھیں ، ان میں جن کا تنزیہی صفات کے ساتھ تعلق تھا اس کو عرش کا نام رکھا کہ میں اپنے وحدانیت کے قیام کے لئے ایسی