خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 566
خطابات ناصر جلد دوم اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۱ء ہیں اُن کو آزادی دی جارہی ہے تو دس دن کے بعد خدا تعالیٰ نے ہمیں توفیق دے دی کہ وہاں مسجد کی بنیا د رکھ دیں اور وہ بڑے خوش تھے وہاں کے مئیرز وغیرہ۔ایک نے تو کہا بھی کہ یہ بھی ہے ہمیں خوشی کہ ہم جو آزادی کا اعلان تھا اس کے دس دن یا بارہ دن چند دنوں کے بعد آپ پہلے ہیں جنہوں نے مسجد کا سنگ بنیادرکھ دیا یہاں اور اُن کے لئے خوشی کے سامان پیدا کر دیے۔تو انسان کا خدا تعالیٰ پر احسان نہیں ہے۔بڑا احمق ہے وہ جو یہ سمجھتا ہے کہ اس کا احسان ہے خدا یا اس کے رسول پر اور بڑا قابل رحم ہے وہ جو ایسا سمجھتا ہے۔ہم تو ہر آن فکر میں رہتے ہیں۔میں اور آپ کہ اللہ تعالیٰ ہر آن ہم پر پہلے سے زیادہ احسان کرتا چلا جائے رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِير۔(القصص: ۲۵) ہم تو اس کے در کے فقیر ہیں۔احسان جتانے والے نہیں ہیں۔ہم عاجز بندوں پر اپنی رحمت سے اور فضل سے وہ نشان پر نشان، نعمتوں پر نعمتیں نازل کرتا چلا جاتا ہے۔تو خدا کی خدائی یعنی وہ پاک ہے میں سبحانہ کی کر رہا ہوں نا تفسیر۔سبحان اللہ اللہ تعالیٰ اس بات سے پاک ہے کہ غیر اللہ کے کسی حصہ سے وہ احسان لے کسی کا زیرا احسان آ جائے۔وہ تو احسان کرنے کا ایک سمندر ہے اور دنیا اور اس کائنات کی ہر شے پر ہر آن اس کا احسان ہے۔پہلے تو یہی کہ جب پیدا کر دیا زندگی عطا کر دی۔الحسی خدا نے تو ہر آن جو زندگی کو قائم رکھنے کے لئے اس کے احسانوں کی ضرورت تھی ہر آن وہ احسان ان کو ملتے چلے گئے۔ایک غلط فہمی دنیا میں پیدا ہوئی عیسائی دنیا بھی اعتراض سمجھنے لگ گئی۔وہ ہے عرش رب کریم۔عرش رب کریم کسے کہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مختلف جگہ اس پر بحث کی ہے اور اس مسئلے کو روزِ روشن کی طرح بالکل واضح کر دیا اور اس میں کوئی ہمیں چھپی ہوئی چیز نہیں اب نظر آتی۔بالکل ہر چیز پاک ہے بڑا لمباویسے یہ مضمون بن جاتا ہے لیکن میں بالکل مختصر کر کے پھر اس وقت انشا اللہ دعا کراؤں گا۔پہلی بات یہ ہر احمدی کو یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ پاک ہے اس بات سے کہ اُسے محدود سمجھا جائے۔وہ محدود نہیں غیر محدود ہستی ہے۔وہ پاک ہے اس بات سے کہ اُس کی ذات کو محدود سمجھ کر اور عرش کو مخلوق جانتے ہوئے اللہ کوعرش پر بٹھایا جائے۔عرش کو ئی مخلوق مادی چیز نہیں جس پر