خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 45 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 45

خطابات ناصر جلد دوم ۴۵ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء کے ایک ہجوم سے سارا کمرہ بھرا ہوا تھا۔ان دنوں عرب اسرائیل جنگ کی وجہ سے عیسائیوں میں مسلمانوں کے خلاف بڑا سخت بغض تھا چنانچہ اس پر یس کا نفرنس کے دوران ایک صحافی نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ آپ نے ہمارے ملک میں کتنے مسلمان بنالئے ہیں۔اس نے سوچا تھا کہ ان کا یہاں تھوڑا بہت اثر ہو رہا ہے۔میں سوال کروں گا یہ کہیں گے ایک دو در جن مسلمان ہوئے ہیں اور بس۔اس طرح ان کا یہ اثر زائل ہو جائے گا۔غرض جب اس نے یہ سوال کیا تو میں نے کہا میرا اور تمہارا اس بات میں اختلاف ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے کتنا زمانہ اس دنیا میں گذار ا یا وہ کتنا عرصہ زندہ رہے۔چلو تم اس بات کو بھی چھوڑ دو تمہارے نزدیک وہ جتنے سال اس دنیا میں رہے تھے۔انہوں نے ساری عمر میں جتنے عیسائی بنائے تھے، اس سے زیادہ ہم تمہارے ملک میں مسلمان بنا چکے ہیں۔اب عمر بھر میں پہلی دفعہ اچانک مجھ سے ایسا سوال ہوا تھا اور اس کا جواب تو میرا دماغ سوچ بھی نہ سکتا تھا اور عین اس وقت جب کہ سوچنے کا وقت ہی نہیں تھا۔اس صحافی نے اچانک یہ سوال کیا اور میں نے اس کا جواب دیا تو وہ بے چارہ اتنا شرمندہ ہوا کہ اس نے اپنا سر جھکا لیا اور دوبارہ مجھ سے سوال کرنے کی جرات نہ کی۔قریباً چالیس منٹ کے بعد میں خود ہی اس سے مخاطب ہوا اور کہا تم نے سوال کر کے ہی دلچسپی لینی چھوڑ دی ہے لیکن میری دلچسپی برقرار ہے۔تم کوئی اور بات پوچھو۔اس نے ڈرتے ڈرتے کچھ اور سوال کئے مگر خدا نے ہر سوال کا جواب موقع پر سجھا دیا اور یہ خدا کا فضل تھا جس پر میں خدا کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہر احمدی کو یہ بشارت دی ہے۔اس بشارت کے ہوتے ہوئے ہم میں سے اگر کوئی شخص پیچھے ہٹے، جھجکے اور گھبر ائے یا اس کی طبیعت میں اگر یہ خیال ہو کہ وہ دنیا میں کیسے آگے نکلے گا تو وہ شخص بیوقوف ہے۔اسے چاہئے کہ ایسی جہالتیں چھوڑ دے۔پس مجھے اور تمہیں یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے اتنا علم دیں گے کہ اسلام کے خلاف دنیا کی جہالتوں کو جہالت ثابت کر دیا جائے گا تبھی تو ہم دنیا کے دل اسلام کے لئے جیتیں گے۔غرض یہ مقالے جو فضل عمر فاؤنڈیشن کی طرف سے انعامی مقابلہ میں لکھے جاتے ہیں ، ان کی تعداد بڑھنی چاہئے۔ویسے ان کے لئے تھوڑا سا انعام بھی رکھا ہوا ہے، وہ بھی حاصل کرنا چاہئے۔