خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 46 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 46

خطابات ناصر جلد دوم ۴۶ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی برکت ہے۔یہ انعام ایک ہزار روپے سے بڑھا کر ڈیڑھ ہزار روپے فی مقالہ کر دیا گیا ہے۔خطبات محمود کا ایک حصہ چھپ چکا ہے اور دوسرا تیار ہے۔شوریٰ تک انشاء اللہ ہپ جائے گا اسی طرح سوانح حیات حضرت فضل عمر رضی اللہ عنہ کی پہلی جلد تیار ہو چکی ہے۔میرے چھوٹے بھائی مرزا طاہر احمد صاحب سوانح حیات حضرت فضل عمر رضی اللہ عنہ کو ایڈٹ کر رہے ہیں۔اس کا ایک حصہ مکمل ہو چکا ہے اور انشاء اللہ جلد چھپ جائے گا۔یہ کتاب بعض مستحق طلباء کو بھی دی جائے گی۔جماعت کی طرف سے اس سال دو جگہ بہت زیادہ ضرورت پیدا ہوگئی تھی۔گوساری ضرورتیں تو ہم پوری نہیں کر سکتے تھے لیکن میں نے جماعت کو کہا کہ ایک تو تمہاری فوری ضرورتیں ہیں اور ایک اللہ تعالیٰ کے عظیم فضل ہیں۔تو جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں نے تم کو دینا ہے، وہ تو نہ میں تم کو دے سکتا ہوں اور نہ جماعت دے سکتی ہے لیکن یہ کہ کوئی شخص حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب مہدی کی طرف منسوب ہو اور وہ بھوکا رہے تو یہ تو نہیں ہوگا۔چنانچہ اس سلسلہ میں جماعت کو بارہ لاکھ سے زائد رقم خرچ کرنی پڑی۔کیونکہ میرے دل میں غیرت تھی اس لئے اس کے لئے جماعت سے کوئی چندہ نہیں مانگا گیا۔جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں، اس وقت پچاس سے زیادہ ملکوں میں ہماری جماعتیں قائم ہو چکی ہیں۔ان میں سے اکثر نے مجھے لکھا کہ ہم تڑپ رہے ہیں۔ہمیں اجازت دیں۔ہم پیسے اکٹھے کر کے اپنے پاکستانی بھائیوں کے لئے بھجوائیں۔میں نے انہیں کہا کہ یہاں آپ کے بھائیوں کو آپ کے پیسے کی ضرورت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ یہیں سے ان کے لئے انتظام کر دے گا۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے انتظام کر دیا۔مگر جن لوگوں کا حق تھا اور جن کا یہ فرض تھا کہ وہ مدد کریں کیونکہ وہ دنیوی لحاظ سے مائی باپ سمجھے جاتے ہیں وہ اس موقع پر اپنا فرض بھول گئے لیکن ہم کسی پر اعتراض کیوں کریں جب کہ اس کے بدلے میں ہم نے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو آسمان سے نازل ہوتے ہوئے دیکھا۔ویسے بھی بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کماتے تو ہیں لیکن وہ اپنی کم سے کم جو ضرورت ہے مثلاً یہ کہ ان کے افراد خانہ کوکھا ناملنا چاہئے یا کپڑے ملنے چاہئیں ، وہ اپنی آمد سے ان اخراجات کو پورا نہیں کر سکتے ایسے دوستوں کو بھی بھائیوں کی طرح کچھ نہ کچھ رقم چپ کر کے ان کے ہاتھ میں رکھ دی جاتی رہی ہے۔چنانچہ بارہ لاکھ روپے