خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 44
خطابات ناصر جلد دوم ۴۴ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء ملنے آگئیں۔وفد کے جملہ اراکین بڑی تہذیب سے بات کرتے تھے۔اسلام کا نام بھی بڑے ادب سے لیتے تھے لیکن ان میں سے ایک شخص نے تھوڑی سی شوخی دکھائی۔اس کا اعتراض یا جو مسئلہ وہ پیش کرنا چاہتا تھا اس کا تعلق اصول فقہ سے تھا۔اب میں خدا کی شان بتا تا ہوں کہ جب اس نے اعتراض کیا تو میری طبیعت میں آیا کہ میں کج بحثی نہیں کروں گا۔اس آدمی کے دائیں طرف ایک پادری بیٹھا ہوا تھا اور اس کے دائیں طرف ایک اور پادری بیٹھا ہوا تھا۔پتہ نہیں مجھے کیا سوجھی (اب تو پتہ ہے اس وقت پتہ نہ تھا ) فرشتوں نے میرے دماغ پر عجیب تصرف کیا میں نے کہا میں تم سے بحث نہیں کرنا چاہتا۔میں نے اس تیسری جگہ پر بیٹھے ہوئے پادری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ اس علم کا ماہر ہے۔یہ تمہیں بتائے گا کہ میں ٹھیک بات کہہ رہا ہوں اور جو تم کہہ رہے ہو وہ غلط ہے۔چنانچہ اس پادری نے معترض کی طرف منہ کر کے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ ٹھیک کہتے ہیں۔تم غلط کہتے ہو۔بعد میں وہ پادری صاحب ہمارے کمال یوسف صاحب سے ملے اور کہنے لگے میں تو ان بارہ میں سے ( وہ کل بارہ آدمی ملنے آئے تھے ) ایک تھا ہی نہیں۔مجھے تو رات دس گیارہ بجے فون کے ذریعہ اطلاع دی گئی کہ جن بارہ آدمیوں نے ملنا تھا ان میں سے ایک آدمی کسی وجہ سے نہیں آ سکتا اس لئے تم بارہویں آدمی کی حیثیت میں وفد میں شامل ہو جاؤ۔تو میں تو رات کے وقت شامل ہوا ہوں۔صبح انٹرویو تھا میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تم لوگوں نے تحقیق کر کے حضرت صاحب کو بتا دیا ہوگا کہ یہ شخص اس فن کا ماہر ہے اور میری طرف اشارہ کر دیا لیکن یہ بتاؤ حضرت صاحب کو کس نے بتایا تھا کہ میں اس فن کا ماہر ہوں۔اب وہ کیسے جانیں کہ خدا تعالیٰ نے بتایا تھا جو علام الغیوب ہے۔چنانچہ میرے منہ سے جب یہ فقرہ نکلا اور اسے مخاطب کیا تو میں خود بھی بڑا پریشان ہوا۔میں نے دل میں کہا کہ اگر وہ شخص انکار کر دے کہ میں اس فن کا ماہر نہیں ہوں تو میری بے عزتی ہو جائے گی کہ یہ کیا بات میرے منہ سے نکل گئی۔مگر یہ فقرہ تو خدا نے میرے منہ سے نکلوایا تھا اس لئے غلط کیسے نکل سکتا تھا۔پس جہاں ہم اپنے علم سے بات کرنے کے ناقابل ہوتے ہیں، وہاں اس بشارت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا فرشتہ آکر ہمارے منہ سے بات کہلوا دیتا ہے۔۱۹۶۷ ء کا ایک اور واقعہ بھی بتا دیتا ہوں۔ہالینڈ میں ایک پریس کانفرنس ہوئی جس میں بہت سے صحافی شریک تھے پچپیس تھیں صحافیوں