خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 546
خطابات ناصر جلد دوم ۵۴۶ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۱ء تھی لیکن جس کے ساتھ یہ ہو جائے نا کہ یہ مسجد کا ہے وہ قبضہ نہیں کریں گے۔اگر آپ نے خود ہی اپنی ضرورت کے مطابق ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا پسند کیا ہو تو اس میں آپ کی مدد کر جائیں گے لیکن یہ کہ چھین لیں مسجد کو یہ نہیں وہاں ہوتا یا یہ کہ وہ چھین لیں عید گاہ کو۔اب یہاں عید ہمارا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے۔ساری باتیں ان کو بتا ئیں۔تو دوسری چیز یہ لی تھی۔تیسری اس وقت میرے ذہن میں نہیں آ رہی اور اس کا بڑا فائدہ ہوا۔کینیڈا، امریکہ نے اس طرف توجہ کی۔وہاں لینی شروع کر دیں۔ان کو میں نے کہا تھا جس سٹیٹ میں ایک احمدی بھی نہیں ، کل وہاں لاکھوں ہوں گے۔جس وقت لاکھوں ہوں گے تو جو زمین آج آپ پانچ ہزار ڈالر ، دس ہزار ڈالر کو لے سکتے ہیں۔اس وقت پانچ لاکھ ڈالر کو بھی نہیں لے سکیں گے۔تو آنے والی نسلوں کے لئے زمین لو۔اس کے اوپر کر دیا ہے شروع کام اور امریکہ میں، کینیڈا میں اس سے بھی زیادہ خالی زمینیں پڑی ہوئی ہیں۔اگر آدمی تلاش کرے، محنت کرے، توجہ دے تو بڑی سستی زمین مل جاتی ہے۔میرے پاس بعض ایسے رسالے آتے ہیں جن سے مجھے پتہ لگتا ہے کہ بعض زمینیں دس روپے ایکڑ امریکہ میں لیکن یہ توجہ نہیں کرتے میں نے کہا جہاں کچی سٹرکیں جاتی ہیں۔زمین لے لو جہاں آج کچی سٹرک ہے پانچ سال کے بعد وہاں کی ہو جائے گی۔پختہ سٹرک سے پانچ میل ، دس میل ، پندرہ میل ، ہیں میں ، میں چالیس میں بھی لے لو کوئی ہرج نہیں۔تو سمجھا رہا ہوں سمجھ آ جائے خدا کرے۔انشاء اللہ۔تو یہ عید گاہ کا منصوبہ بھی بڑا کامیاب ہو رہا ہے۔تحریک جدید تحریک جدید ( میں نے کہا ہے میں سمیٹ بھی نہیں سکا، اتنی خدا تعالیٰ نے نعمتیں ہمیں عطا کی ہیں۔) نے غیر ممالک میں بہت سے نئے مشن ہاؤسز اس وقت بنا دیے اور ۳۴ نئی مساجد سال رواں میں تحریک جدید کے علاقے میں بن گئیں۔اشاعت لٹریچر بڑی کثرت سے ہو رہا ہے۔فولڈر بھی اس میں شامل ہیں۔یہ میں نے بتایا صد سالہ اور تحریک، بعض جگہ اکٹھا مل کے بھی کام کرتی ہے۔مثلاً جو جاپان میں مشن ہاؤس خریدا گیا ہے اس میں قریباً ۳۵ ۳۶ فیصد صد سالہ کی رقم ہے اور باقی تحریک کی رقم ہے۔