خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 547
خطابات ناصر جلد دوم ہسپتال ۵۴۷ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۱ء بڑے ہسپتال کھل گئے ہر ہسپتال خدا تعالیٰ کی عظمتوں کا نشان بن گیا۔ہر ہسپتال جماعت احمدیہ کی صداقت کا نشان بن گیا۔ہر ہسپتال خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو ثابت کرنے کی دلیل بن گیا۔ہر ہسپتال دنیا میں بھلائی کے پھیلانے کا ذریعہ بن گیا۔ہر ہسپتال غریب کو شفا پہنچانے کا ذریعہ بن گیا۔بے تحاشہ فوائد پہنچے۔سوسونو کر ساتھ لے کے غیر ملکوں کے امراء ہمارے ہسپتالوں میں دوسرے ملک سے آئے۔صحت یاب ہو گئے۔جن بیماروں کو یورپ کے ڈاکٹروں نے لا علاج قرار دیا ان کو خدائے شافی نے چنگا کر کے اور ہسپتال سے بھجوا دیا۔وہ اپنا کام کر رہے ہیں۔جو تحریک اور یہ ملا کے ویسٹ افریقہ میں تو کوئی بیس کے قریب ہسپتال ہیں۔اتنا اثر ہے کہ (پچھلے سال کے جلسے میں بھی میں نے بتایا تھا ) حکومتیں پیچھے پڑ کے سکول بھی کھلوا رہی ہیں اور ہسپتال بھی کھلوا رہی ہیں، ان علاقوں کی حکومتیں جہاں ایک وقت میں احمدی کا ن داخلہ بھی بند سمجھا جاتا تھا۔کوئی جانہیں سکتا تھا اتنی مخالفت تھی لیکن دنیا میں خدا تعالیٰ کے فرشتے جماعت احمدیہ کے حق میں اور جماعت کی اس مہم کو کامیاب کرنے کے لئے کہ ساری دنیا کے دل خدا اور اس کے رسول کے لئے جیتے جائیں گے، ایک تبدیلی پیدا کر رہے ہیں۔ایک انقلاب عظیم دلوں کے اندر بپا ہونا شروع ہو گیا۔کچھ نتائج آج ہمیں نظر آ رہے ہیں۔کچھ نتائج کل نظر آئیں گے ، کچھ پرسوں آئیں گے۔دنیا بدل رہی ہے۔دنیا کھڑی نہیں۔دنیا کی مخالفت ہمالیہ کے پہاڑ کی طرح دھنسی ہوئی نہیں ہے زمین کے اندر بلکہ وہ بادلوں کی ٹکڑیوں کی طرح ہوا میں حرکت میں آ گئی۔ایک وقت ایسا آئے گا کہ اسلام کا نور اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن آسمان پر کچھ اس طرح چمکے گا کہ یہ اندھیرے پیدا کرنے والی کالی بدلیوں کا نشان بھی کسی کو نظر نہیں آئے گا۔انشاء اللہ تعالی۔( نعرے) نصرت جہاں نے زیادہ ہسپتال بنائے ہیں سترہ اور چند ایک تحریک جدید کے بھی ہیں یہ دونوں سارے مل کے ایک کام کر رہے ہیں اور نصرت جہاں کے اکیس سکول مغربی افریقہ میں،