خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 545
خطابات ناصر جلد دوم ۵۴۵ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۱ء کی چھٹیوں میں یہ پچاس لاکھ ، کروڑ ٹورسٹ (Tourist) مختلف ملکوں میں پھر رہا ہوتا ہے اور ہمارا تجربہ یہ ہے کہ سوائے دو فیصد کے باقی سارے شوق سے لیتے اور پڑھتے ہیں اور سوائے دس پندرہ فیصد کے ( باقی ) بڑے آرام سے پیار سے اس کو منہ کر کے اپنے بٹوے میں عورت اگر ہویا بیگ میں اگر مرد ہو وہ ڈال لیتے ہیں گھر میں لے جانے کے لئے۔میں نے ان کو یہ سمجھایا تھا کہ جب تک اگلا موسم سیاحت کا نہیں آتا یہ ایک فولڈران کے پاس رہے گا۔پھر نیا مل جائے گا ، پھر نیا شائع کریں۔پہلے تو اسلام کا تعارف ہو گیا کہ اسلام میں اللہ تعالیٰ کا تصور کیا ہے اور پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سیرت کے متعلق۔اسی طرح ایک کے بعد دوسرا دیتے چلے جاؤ۔اس کا بڑا فائدہ ہوا۔یہ پچھلے جلسے اور اس جلسے کے درمیان جور پورٹیں ہیں اس کے متعلق میں یہ بات کر رہا ہوں اور کم کہ ہمیں پورے نہیں ملے ورنہ اور بھیج دیتے۔ایک ایک مارکیٹ میں چھ چھ سو لے لیا ایک زبان والے نے لیکن کہیں کوئی زبان بولنے والے کم تھے، کہیں زبان بولنے والے زیادہ تھے۔یہ تو فرق پڑے گا نا اور دوسرے اس کا فائدہ یہ ہوا کہ وہ پاکستانی جو جرمن کے ملک میں پہنچ کر یہ سمجھتا تھا کہ میں یہاں آیا ہوں جرمن شہری کی بد عادات سیکھنے ، اس کو یہ پتہ لگتا ہے کہ نہیں ، میں آیا ہوں اسلام کی تبلیغ کرنے اور بغیر کوشش کے چیز اس کو ملتی ہے وہ جاتا ہے پارٹی بنا کے جاتے ہیں، بعض جگہ وہ ٹینٹ لگا دیتے ہیں اور مارکیٹ پلیس (Place) میں وہ پھرتے رہتے ہیں۔مارکیٹ وہاں ہفتے میں ایک جگہ ایک دفعہ ایک شہر میں ہوتی ہے۔کئی ہزار آدمی ان کے اپنے بھی آجاتے ہیں۔مثلاً ناروے میں ایک دن میں انہوں نے نارویجین کو شاید آٹھ سو یا کتنے ( صحیح تعداد یاد نہیں ) بڑی تعداد میں اپنے ملک میں ( فولدر تقسیم کئے ) ویسے وہ رپورٹ کرتے تھے کہ ہم نے ایک مہینے میں پانچ 006 نارو تسکین کو تبلیغ کی اور وہاں ایک دن میں آٹھ سو کو ہو گئی۔تو یہ اللہ تعالیٰ نے بڑا رحم کیا یہ نئی چیز۔دوسرا مجھے اللہ تعالیٰ نے تحفہ یہ دیا پچھلے سال کی عیدہ گاہ کا تصور۔عید گاہ ہماری انسٹی ٹیوشن (Institution) ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں عید ادا نہیں کرتے تھے بلکہ باہر نکلتے تھے۔عید کے لئے چونکہ یہ مذہبی تہوار جو ہے اس کے لئے ہے ، اس واسطے ساری مہذب شریف قومیں جو ہیں وہ ان کے اوپر قبضہ نہیں کرتیں۔بعض ملک ہیں وہ کر جاتے ہیں مسجدوں پر بھی قبضہ مثلاً سپین میں ایک دفعہ کر دیا لیکن ان کی تو اس وقت آپس میں لڑائیوں کی بات