خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 521
خطابات ناصر جلد دوم ۵۲۱ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۱ء میں سے جو ہمارے خلفائے راشدین میں نہیں تھے لیکن پوری طرح جاں نثار تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق تھے اللہ کے اس کی معرفت رکھنے والے تھے، اس کی عظمتوں کو جاننے والے تھے، اپنی عاجزی کو سمجھنے والے تھے انقلاب عظیم بپاہو چکا تھا ان کی زندگی میں۔اور اهْتَدَيْتُم میں یہ اعلان ہوا میرے صحابہ کے نقش قدم پر چلو گے جو میرے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں جو اسوہ نبوی کی پیروی کرنے والے ہیں تو تمہیں بھی اهْتَدَيْتُم وہی مل جائے گا جو ان کو ملا یعنی جو صحابہ کو مقام ملا تمہیں بھی مل جائے گا۔اس واسطے کہ جو ان کے عمل ہوں گے وہ تمہارے عمل ہوں گے۔اس لئے کہ جو دل ان کے سینوں میں دھڑک رہا ہو گا وہ تمہارے سینوں میں بھی دھڑک رہا ہوگا۔اس لئے کہ تمہارے سینے جس نور سے منور ہوں گے ان صحابہ کے سینے بھی اس نور سے منور تھے اس لئے کہ تمہارے دل کی دھڑکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کی دھڑکن کے ساتھ ہو گی تو جس طرح وہ ہادی بن گئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق ہو کر اللہ تعالیٰ کی عظمتوں کو پہچان کر آپ کی اتباع کر کے تمہارے لئے بھی وہ رفعتیں ممکن الحصول ہیں۔تم حاصل کر سکتے ہوا نہیں۔اس کا مفہوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اپنی ہی شان کے ساتھ ایک جگہ ادا کیا ہے مضمون وہاں یہ ہے کہ کسی نبی نے حقیقی معنی میں روحانی قیامت کا نمونہ نہیں دکھایا نوع انسانی کی زندگی میں۔صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنہوں نے انسانی زندگی میں ایک روحانی قیامت کا نمونہ دکھایا۔آپ فرماتے ہیں۔قیامت کا نمونہ روحانی حیات کے بخشنے میں اس ذات کامل الصفات نے دکھایا جس کا نامِ نامی محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔سارا قرآن اول سے آخر تک یہ شہادت دے رہا ہے کہ یہ رسول اس وقت بھیجا گیا تھا کہ جب تمام قو میں دنیا کی روح میں مر چکی تھیں اور فساد روحانی نے بر و بحر کو ہلاک کر دیا تھا۔تب اس رسول نے آ کر نئے سرے سے دنیا کو زندہ کیا اور زمین پر توحید کا دریا جاری کر دیا۔اگر کوئی منصف فکر کرے کہ جزیرہ عرب کے لوگ اوّل کیا تھے اور پھر اس رسول کی پیروی کے بعد کیا ہو گئے اور کیسی ان کی وحشیانہ حالت اعلیٰ درجہ کی انسانیت تک پہنچ گئی اور کس صدق وصفا سے انہوں نے اپنے ایمان کو اپنے خونوں کے بہانے سے اور اپنی جانوں کے فدا کرنے اور اپنے عزیزوں کے چھوڑنے