خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 522
خطابات ناصر جلد دوم ۵۲۲ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۱ء اور اپنے مالوں اور عزتوں اور آراموں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں لگانے سے ثابت کر دکھلایا تو بلا شبہ ان کی ثابت قدمی اور ان کا صدق اپنے پیارے رسول کی راہ میں ان کی جان فشانی ایک اعلیٰ درجہ کی کرامت کے رنگ میں اس کو نظر آئے گی۔وہ پاک نظر ( محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی۔حضرت اقدس خلیفتہ المسیح الثالث ایدہ اللہ۔ناقل ) ان کے وجودوں پر کچھ ایسا کام کر گئی کہ وہ اپنے آپ سے کھوئے گئے اور انہوں نے فنافی اللہ ہوکر صدق اور راستبازی کے وہ کام دکھلائے جس کی نظیر کسی اور قوم میں ملنا مشکل ہے اور جو کچھ انہوں نے عقائد کے طور پر حاصل کیا تھا وہ یہ تعلیم نہ تھی کہ کسی عاجز انسان کو خدا مانا جائے یا خدا تعالیٰ کو بچوں کا محتاج ٹھہرایا جائے بلکہ انہوں نے حقیقی خدائے ذوالجلال جو ہمیشہ سے غیر متبدل اور حی و قیوم اور ابن اور آب ہونے کی حاجات سے منزہ اور موت اور پیدائش سے پاک ہے بذریعہ اپنے رسول کریم کے شناخت کر لیا تھا اور وہ لوگ سچ مچ موت کے گڑھے سے نکل کر پاک حیات کے بلند مینار پر کھڑے ہوئے گئے تھے اور ہر ایک نے ایک تازہ زندگی پالی تھی اور اپنے ایمانوں میں ستاروں کی طرح چک اٹھے تھے۔( جیسا کہ نبی کریم نے فرمایا نا کہ اَصْحَابِی گا النُّجُومِ یہ اسی کا مفہوم بیان ہوا کہ ان کے اوصاف کیا تھے۔وہ صحابہ جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کے ستارے کہا اور فرمایا کہ جو ان کے پیچھے چلے گا وہ اس مقصد کو پا لے گا جو ان کی زندگی کا مقصد حیات تھا۔حضرت اقدس خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ۔ناقل ) سودر حقیقت ایک ہی کامل انسان دنیا میں آیا جس نے ایسے اتم اور اکمل طور پر یہ روحانی قیامت دکھائی اور ایک زمانہ دراز کے مُردوں اور ہزاروں برسوں کے عظم رمیم کو زندہ کر دکھلایا اس کے آنے سے قبریں کھل گئیں اور بوسیدہ ہڈیوں میں جان پڑ گئی اور اس نے ثابت کر دکھایا کہ وہی حاشر اور وہی روحانی قیامت ہے جس کے قدموں پر ایک عالم قبروں میں سے نکل آیا۔“ ( آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۰۴ تا ۲۰۷) تو یہ معنی ہیں کہ ان کے اندر یہ خصوصیات یہ صفات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجے میں پیدا ہوئیں۔دوسری بات ہمیں یہ نظر آتی ہے اسی فرمان اور ارشاد کے مطابق کہ وہیں یہ سلسلہ ختم نہیں