خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 520
خطابات ناصر جلد دوم ۵۲۰ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۱ء نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحبت سے پورا فائدہ حاصل کیا اور اس کے نتیجہ میں ان کی زندگی میں انقلاب عظیم بپا ہوا اور ایک وقت میں جب ان کو یہ احساس پیدا ہوا کہ ہم کسی وقت زمانہ جاہلیت میں اسلام لانے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ دینے کے منصوبے بھی بناتے تھے اور آپ کے خلاف جنگیں بھی کرتے تھے، آپ کے اصحاب کو قتل بھی کیا ہم نے اور ان کے ایک عقلمند ہمشیر نے انہیں مشورہ دیا کہ تمہارے مُنہ کے دھبے سوائے تمہارے خون کے اور کوئی چیز دھو نہیں سکتی تو ایک سو چالیس نے تین لاکھ قصیر کی فوج پر حملہ کر دیا اور کسی نے دس کو مار کے کسی نے بیس کو مار کے سارے کے سارے وہاں شہید ہو گئے یہ بھی صحابہ تھے۔تو یہاں یہ اعلان ہوا۔اَصْحَابی“ وہ صحابہ جو میرے کہلانے کے مستحق ہیں ” اَصْحَابی جنہوں نے مجھ سے تربیت حاصل کی ، جنہوں نے زندگی میں کامیابی اور حیات نو حاصل کرنے کا گر اس میں دیکھا، پایا اور عمل کیا کہ:۔إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى ( يونس : ١٦) کہ میں تو صرف اس چیز کی اتباع کرتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر نازل ہوئی۔انہوں نے بھی صرف اس چیز کی اتباع کی جو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے ذریعے نازل کیا ، قرآن عظیم قرآن کو سمجھنے کے لئے خدا کی نگاہ میں پاک بننے کے لئے انہوں نے کوشش کی۔انہوں نے قربانیاں دیں، انہوں نے اپنے نفس پر بوجھ ڈالا۔انہوں نے رفعتوں کے حصول کے لئے جو باتیں قرآن کریم نے بیان کی تھیں ان پر عمل کیا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب بن گئے اور ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ استعداد اور صلاحیت عطا کی کہ وہ ہادی بن جائیں وہ دوسروں کو ہدایت دینے والے بن جائیں اور ان میں ہمارے بزرگ صحابی مختلف جہات کی طرف گئے اور ایک ایک صحابی جہاں گیا وہاں کی زندگی میں ایک انقلاب عظیم بپا کر کے اس علاقے کو دائرہ اسلام کے اندر لانے میں کامیاب ہوا۔اس میں یہ بھی اعلان کیا گیا کہ مقصود ایک ہی ہے۔ہدایت دینے والے مختلف ہوں گے۔کوئی ہدایت پائے گا مثلاً حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کوئی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے میں سارے خلفاء کے نام جان کے نہیں لے رہا۔لمبا ہو جائے گا مضمون ) کوئی ان بزرگ صحابہ