خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 36 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 36

خطابات ناصر جلد دوم ۳۶ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء ابا جی ! دو آ نے لینے ہیں۔اس بے چارے کو دو آنے ہی بہت نظر آتے ہیں۔وہ یہ کہتا ہی نہیں کہ روپیہ لینا ہے۔تو وہی ہماری حالت ہے۔ہمیں کیا پتہ۔خدا پوچھتا ہے کتنا لینا ہے اور کتنا دینا چاہتے ہو میری راہ میں ، وہ میں دے دیتا ہوں۔ذرہ سا نام لیتے ہیں لیکن وہ اس کے مقابلہ میں اپنے انعامات کو کہیں کا کہیں لے جاتا ہے۔اس کی آگے چل کر انشاء اللہ ایک مثال بتاؤں گا۔پس پچاس سے زیادہ ممالک میں اس وقت تک خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعتیں قائم ہو چکی ہیں جو سب کی سب ایمان سے لبریز اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل کرنے والی اور خدا اور اس کے رسول سے محبت کرنے والی ہیں۔تعمیر مساجد: اسی طرح کئی ملکوں میں مساجد بھی تعمیر ہو چکی ہیں۔خدا تعالیٰ کی خاطر مسجدیں بنانا ہمارا فرض ہے۔نماز کی عبادت یعنی وہ عبادت جس کا مسجد سے تعلق ہے، اس کو صرف مسجد تک محدودنہ رکھنا یہ ہمارا کام ہے کیونکہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا (صحیح بخاری کتاب التيمم) کہ خدا نے ساری زمین میرے لئے مسجد بنادی ہے۔بعض علاقوں کے احمدی دوستوں کو تکلیف پہنچے تو کہتے ہیں کہ جی ! بڑی تکلیف ہے۔ہماری مسجد میں چھینی جا رہی ہیں۔میں تو ایسے دوستوں سے کہا کرتا ہوں کہ تمہاری مسجدیں کون چھین سکتا ہے؟ تمہیں تو محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ساری زمین تمہارے لئے مسجد بنا دی گئی ہے۔اس لئے تمہاری مسجدیں کوئی نہیں چھین سکتا لیکن ان باتوں کے باوجود پھر بھی ہم جہاں موقع ملتا ہے مسجد میں تعمیر کرتے ہیں کیونکہ جمعہ کے لئے اکٹھے ہونے اور دینی مجالس کے انعقاد کے لئے مسجدوں کی ضرورت ہوتی ہے اور پھر یہی مساجد ہمارے لئے مدرسہ کا کام دیتی ہیں۔چنانچہ اس سال اس وقت تک پندرہ نئی مساجد تعمیر ہو چکی ہیں اور جو خطوط مجھے پہنچے ہیں، ان کے مطابق میں سمجھتا ہوں کہ میں چھپیں مساجد اس وقت زیر تعمیر ہیں اور وہ بھی دو چار ماہ تک مکمل ہو جائیں گی۔ہماری جماعت میں بعض ایسے جو شیلے لوگ بھی ہیں کہ یہاں سے کسی دوست نے اپنے ایک رشتہ دار کو افریقہ میں خط لکھا جس میں اس نے اور باتوں کے علاوہ یہ بھی لکھا کہ یہاں ہماری ایک مسجد جلا دی گئی ہے۔افریقنوں نے سنا تو ان میں سے کسی نے کہا کہ ہم یہاں ایک مسجد بنا دیں گے