خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 35
خطابات ناصر جلد دوم ۳۵ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء کا۔نہ ہمیں پہننے کا شوق ہے اور نہ اچھے فرنیچر کا۔ہمارے دل میں صرف ایک شوق ہے اور وہ یہی شوق ہے کہ دنیا کے ہر دل میں خدائے واحد ویگانہ کی محبت پیدا ہو جائے اور محبوب خدا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق پیدا ہو جائے۔ہم یہی دعائیں کرتے ہیں اور بس۔خدا لوگوں کو دنیا کی دولتیں مبارک کرے جو روحانی دولت ہمیں مل گئی ہے وہ ہمارے لئے کافی ہے۔لوگ ہمیں پاگل کہنا چاہیں، کہہ لیں۔لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے پیار کے مقابلہ میں دنیا کی یہ دولتیں اور دنیا کے یہ سیاسی اقتدار کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ہم لا شے محض تھے اور اس نے اپنا پیار دے کر ہمیں سب کچھ دے دیا ہے۔اسی کی خاطر ہم زندگی وقف کرتے ہیں۔وقف عارضی کی میں بات کر رہا ہوں ، دوست جب وقفِ عارضی پر باہر جاتے ہیں تو کسی سے جان پہچان نہیں ہوتی بس مسجد میں چلے جاتے ہیں اور وہاں جا کر بیٹھ جاتے ہیں اور جو کچھ ملتا ہے کھا لیتے ہیں۔میں نے ہدایت کر رکھی ہے کہ ہر واقف عارضی نے اپنا کھانا کھانا ہے۔جماعت کی طرف سے مہمان نوازی قبول نہیں کرنی۔چنانچہ اس ضمن میں کئی مثالیں سامنے آتی ہیں۔کسی نے لکھا کہ جی روٹی پکائی اور وہ جل گئی۔جلی ہوئی روٹی کھالی اور اگر کسی کو روٹی پکائی نہیں آتی تو وہ چنے کھا لیتا ہے۔کبھی نیم گرم اور کبھی نیم سرد چائے بنا کر گزارہ کر لیتے ہیں اور انہیں بڑا لطف آتا ہے۔وہ تو گویا اللہ کے مہمان ہوتے ہیں جہاں بھی جاتے ہیں۔خدا انہیں خود ہی سکھاتا ہے اور کام کرنے کی طاقت دیتا ہے۔ایک وقت تھا لوگ پیٹ کے اوپر پتھر باندھتے تھے اور یہ وہی تھے جن کے مقابل پر شکم پر لوگ آئے مگر انہوں نے خالی پیٹ ہوتے ہوئے بھی دشمن کو شکست دی اور اسلام کے لئے نمایاں کامیابی حاصل کی۔تاہم اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اب میدان بدل گیا ہے۔آج تو توپ و تفنگ اور ایٹم بم کی جنگ ہمارے نزدیک مذہب کی جنگ نہیں ہے۔اس وقت ہم نے اخلاق کے ساتھ ، روحانی علوم کے ساتھ ، اخلاقی حسن کے ساتھ اور خدا تعالیٰ کی صفات کی شمع دکھا کر ظلمتوں کو دور کر کے اسلام کی جنگ جیتنی ہے۔ہمیں دنیا سے پیار کرنا ہے اور لوگوں کو کچھ دینا ہے ان سے لینا کچھ نہیں۔میں اس ضمن میں آگے چل کر بھی بتاؤں گا۔جب ہم کہتے ہیں کہ ہم نے دنیا کو دینا ہے تو خدا پوچھتا ہے۔کتنا لینا ہے۔کئی دفعہ آپ بچوں سے پوچھتے ہیں کہ کتنے پیسے لینے ہیں۔آپ کی نیت ہوگی کہ میں اسے دس روپے دوں گا۔مگر بچہ کہتا ہے