خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 37
خطابات ناصر جلد دوم ۳۷ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء اور اس طرح مسجدوں کی تعداد کم نہیں ہونے دیں گے۔چنانچہ انہوں نے وہاں ایک مسجد بنادی۔تو مسجد خدا تعالیٰ کا گھر ہے۔خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا انَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ (الجن : ۱۹) فرمایا کوئی شخص یہ دعوی نہ کر بیٹھے کہ مسجد اس کی ملکیت میں ہے۔مسجد تو خدا کی ملکیت ہے کیونکہ یہ اس کا گھر ہے۔فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللهِ اَحَدًا (الجن: ۱۹) اور مسجد کی اتنی شان ہے کہ خدائے واحد و یگانہ کی عبادت کرنے والا ہر شخص اپنے اپنے عقیدہ کے مطابق اس میں عبادت کر سکتا ہے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ایک دفعہ نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آیا جو کہ عیسائیوں کے یونیٹیرین فرقہ سے تعلق رکھتا تھا۔یہ فرقہ تثلیث کا منکر اور خدائے واحد و یگانہ کو ماننے والا تھا۔عیسائیوں میں بعض فرقے ایسے بھی ہیں جو خدا کو وحدہ لا شریک مانتے ہیں اور حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا نہیں مانتے۔غرض جب وہ وفد حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تبادلہ خیالات کے لئے آیا تو دورانِ گفتگو ان کی عبادت کا وقت آ گیا چنانچہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ چونکہ ان کی عبادت کا وقت ہو گیا ہے اس لئے اجازت دیں تا کہ وہ باغ میں جا کر عبادت کر سکیں تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ باغ میں جانے کی کیا ضرورت ہے۔یہ میری مسجد ہے۔یہ خدا کا گھر ہے۔اس میں خدائے واحد و یگانہ کی عبادت ہوتی ہے۔کسی کا خواہ کوئی عقیدہ ہو وہ یہاں اپنی عبادت کر سکتا ہے۔اس لئے وہ بھی یہاں عبادت کر سکتے ہیں۔۱۹۶۷ء میں جب میں ڈنمارک گیا اور ڈنمارک کی مسجد کا افتتاح کیا تو وہاں کچھ عیسائی بھی افتتاحی تقریب میں شریک تھے۔مجھے وہاں کے مبلغین نے کہا کہ یہ لوگ اسلام میں دلچسپی تو رکھتے نہیں۔اگر آپ نے لمبی تقریر کی تو یہ لوگ بور ہو جائیں گے اور اُکتا کر چلے جائیں گے۔میں نے کہا ٹھیک ہے تقریر مختصر کر دیتے ہیں۔میں نے اپنے خطبہ میں تین چار پوائنٹس (Points) لئے اور صرف تین منٹ کے اندر بیان کر دیئے۔میں نے اس موقع پر وَ أَنَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللهِ أَحَدًا ( الجن: ۱۹) کی مختصر تشریح کی اور نجران کے عیسائی وفد کی مثال دی۔یہ تقریر دراصل خطبہ تھا جو میں نے جمعہ کی نماز سے قبل بطور افتتاح کے دیا تھا۔خطبہ کے بعد نماز کے لئے جب میں کھڑا ہوا تو سینکڑوں عیسائی باقاعدہ نیت باندھ کر ہمارے ساتھ نماز میں